عدالت نے بازیاب بچیوں کا بیان ریکارڈ کرانے کیلیے دائر درخواست مسترد کر دی

پیر اپریل 18:54

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے سرجانی ٹائون سے دو بچیوں کے اغواہ سے متعلق سے مقدمے میںتفتیشی افسر کی جانب سی؂ دفعہ164کے تحت بازیاب بچیوں کا بیان ریکارڈ کرانے کیلیے دائر درخواست مسترد کر دی جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبروسرجانی ٹائون سے دو بچیوں کے اغواہ سے متعلق سے مقدمے کی سماعت ہوئی عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سی؂ دفعہ164کے تحت بازیاب یافتہ بچیوں کا بیان ریکارڈ کرانے کیلیے دائر درخواست مستردکرتے ہوئے تفتیشی افسر کو 5مئی تک کیس کا چلان جمع کرانے کا حکم دے دیا ۔

عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کی درخواست بازیاب یافتہ بچیوں کی بار بار عدم پیشی پر مستر د کر کی گئی۔واضح رہے کہ سرجانی سے دو بچیوں کے اغواہ کا مقدمہ تھانہ سرجانی میں درج ہے کہ مقدمے میں سجاد ، اعظم ،سمیرا اور ماریہ نامی ملزمان گرفتار ہیں ۔

(جاری ہے)

جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کی خلاف ورزی پر دائر 58مقدمات میں 28فیکٹری مالکان پر فرد جرم عائد کر دی ۔

ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکا ر پر عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کے گواہوں کو طلب کر لیا ۔جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی عدالت میں ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کی خلاف ورزی پر دائر 58مقدمات کی سماعت ہوئی ۔ عدالت میں 28سے زائد فیکٹریوں کے مالکان پیش ہوئے ۔دوران سماعت عدالت نے 58مقدمات میں نامزد 28فیکٹریوں کے مالکان پر فرد جرم عائد کی ۔کمرہ عدالت میں ملزمان نے عدالت کے روبرو صحت جرم سے انکار کیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کے گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کی خلاف ورزی پر ضلع غربی میں موجود ماربل اور کپڑے رنگنے والی 28سے زائد فیکٹریوں کے مالکان کے خلاف 58مقدمات درج ہیں۔ملزمان نے مقدمات میں عدالت سے 20ہزار روپے فی کس کے عوض ضمانت لے رکھی ہے۔ملزمان کے خلاف تمام مقدمات واٹر کمیشن کی ہدایت پر درج کئے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوان :