مقبوضہ کشمیر میں آج ظلم و ستم کا بازار گرم ہے،بچوں، مائوں، خواتین سے زیادتی اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،سردار مسعود خان

آزادی کا حق مانگنے والوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے، سیاسی قائدین کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ ظلم کے اس بازار کو بند ہونا چاہیے،صدر آزاد کشمیر

پیر اپریل 19:00

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) صدر سردار مسعود خان نے اسلامی نظریاتی کونسل آزاد جموں و کشمیر و جموں و کشمیر ملی رابطہ کونسل کے مشترکہ اجلاس سے آج مظفرآباد میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بین المسالک ہم آہنگی، یکجہتی اور اتحاد مثالی ہے اور اس کا سہرا یہاں کے مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام اور مشائخ کے سر ہے جو معاشرے میں اخوت، بھائی چارگی، برداشت، رواداری کو فروغ دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہے۔

صدر گرامی نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی اساس ہے اور مسلمانانِ ہند نے شعوری طور پر اپنے الگ ملک معرض وجود میں لایا تاکہ وہ یہاں اسلامی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے اپنی زندگی اسوہ حسنہ کے سنہری اصولوں پر بسر کر سکیں۔

(جاری ہے)

صدر گرامی نے کہا کہ آزاد کشمیر کی ریاست بھی انہی اصولوں پر حاصل کی گئی۔ یہ ریاست امن کا مسکن ہے اور یہاں مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے درمیان محبت اور مودت اور باہمی احترام کی اعلیٰ قدریں موجود ہیں۔

صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگرچہ دنیا کے مختلف اسلامی ممالک نے اپنی سیاسی اور جغرافیائی آزادی تو حاصل کر لی لیکن انہیں اپنی نظریاتی آزادی کو صحیح معنوں میں حاصل کرنے کے لیے مزید محنت اور انتھک کاوشوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک دین فطرت ہے اور یہ سائنس اور معاشرتی علوم کی موجودہ کسوٹی پر بھی پورا اترنے والا مذہب ہے۔

ہمیں اپنی اسلامی ثقافت کو فروغ دیتے ہوئے باہمی ارتباط کی فضاء پیدا کرنی ہو گی۔ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور اس کی اساس لا الہ اللہ ہے۔ ہمیں اس اساس کو استحکام دیتے ہوئے دنیا کی مختلف اقوام و عقائد کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ آج کشمیر، افغانستان،، شام، عراق،، یمن میں جو خلفشار ہے وہ آپس کی صفوں میں نااتفاقی کی وجہ سے ہے۔

ہمیں نفرتوں کو ختم کر کے قرآن و سنت اور عقیدہ توحید پر پوری امہ کو یکجان اور یک جاں و قلب بننا پڑے گا۔ تب ہی ہم دنیا کی برادری میں عزت اور آزادی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ صدر گرامی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے اس پار مقبوضہ کشمیر میں آج ظلم و ستم کا بازار گرم ہے۔ وہاں بچوں، مائوں، خواتین سے زیادتی اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آزادی کا حق مانگننے والوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے۔

سیاسی قائدین کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے اس بازار کو بند ہونا چاہیے۔ صدر گرامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں فخر ہے کہ آزاد کشمیر میں تعلیمی اہداف یا سکور پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے اور یہاں جرائم کی شرح بھی سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات نظر و خیال ایک فطری عمل ہے۔ یہ اختلاف نظر مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن کشمیر پر ہم سب کو اکھٹا ہو کر کشمیر کاز کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ صدر گرامی نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار معاشرے میں کشتی کے ایک چپو کی مانند ہے کہ وہ اس کشتی کو درست سمت میں لے جانے میں اپنا قلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ صدرگرامی نے کہا کہ آئندہ آنے والا وقت مصنوعی ذہانت اور بائیو ٹیکنالوجی کا دور ہو گا۔ ان سائنسی ایجادات اور ترقی کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رہنمائی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

صدر نے کہا کہ آج ہم صرف قرآن اور اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں ڈھال کر کسی طرح کے الجھائو اور کنفویژن سے بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں سی پیک کے ذریعے ایک معاشی اٹھان آئے گی۔ ہمیں اپنی صفوں میں مکمل یکجہتی، اتفاق، یگانگت پیدا کر کے اپنی معیثت کو استحکام بخشنے اور سی پیک سے کماحقہ استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے چاہیے۔

صدر گرامی نے مزید کہا کہ اسلام عالمگریت کا علمبردار ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس کا مظہر ہے۔ حضور اکرم دوسرے مذاہب اور ان کے ماننے والوں کو بھی محترم و مہتشم سمجھتے تھے۔ صدر گرامی نے کہا کہ آج ایشیا پیسفگ سے لے کر شمالی امریکہ تک مسلمان دنیا کے ہر خطے اور ہر کونے میں موجود ہیں اور ہر جگہ آذان کی اور اللہ اکبر کی آوازیں گونج رہی ہیں۔

صدر نے اپنے خیالات میں کہا کہ مسجد ایک عمرانی اکائی ہے اسے جائے عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح، تربیت اور مثبت تبدیلیاں لانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صدرگرامی نے کہا کہ آئمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں امن، اخوت، رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے میں اپنا اہم اور کلیدی کردار ادا کریں۔ اس موقع پر اسلامی نظریانی کونسل پاکستان کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنی خطاب میں کہا کہ باہمی ارتباط، امن اور معاشی ترقی سے آج مسلم امہ درپیش بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

اجلاس کی صدارت چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء نے کی۔ جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ کے کرم سے یہاں ریاست کے علماء کرام کے تعاون سے بین المسالک و عقائد کے درمیان ایک قابل قدر و مثالی ہم آہنگی موجود ہے جسے مزید فروغ دیا جائے گا۔ اجلاس سے علماء مشائخ کونسل کے چیئرمین عبیداللہ فاروقی، مولانا دانیال شہاب، مولانا اسحاق نقوی، مولانا محمود الحسن اشرف، مولانا امتیاز صدیقی نے بھی خطاب کیا۔#