جامعات کی شناخت تحقیق سے ہوتی ہے،ورکشاپس اور سیمینارز اہم کردار ادا کرتے ہیں،ڈاکٹرایس الطاف حسین

پیر اپریل 19:18

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) وفاقی جامعہ اردو کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ایس الطاف حسین نے شعبہ ارضیا ت کے تحت Lithostraitigraphic Logging and Facie Analysisکے موضوع پر ہونے والی پانچ روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کی شناخت تحقیق سے ہوتی ہے اور اس ضمن میں ورکشاپس اور سیمینارز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم اپنے تمام تر وسائل جامعہ میں تعلیم اور تحقیق کی سربلندی اور ترقیاتی کاموں پرخرچ کریں گے اور بتدریج جامعہ کو ترقی کی منازل کی بلندیوں تک لے کر جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شعبہ ارضیات اس لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی مدد سے زمین کے اندر پوشیدہ خزانے دریافت کرنے میں مدد ملتی ہے جسمیں تیل ، گیس ، کوئلہ اور معدنیات بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ہمارے ملک کی سرزمین بہت زرخیز ہے اگر اس مضمون میں مہارت حاصل کرلی جائے تو وہ وقت دور نہیں جب ہمیں توانائی کے حصول کے لئے کسی اور ملک کی طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی بلکہ ہم دیگر ممالک کو توانائی برآمد بھی کرسکیں گے۔

رجسٹرار افضال احمد نے کہا کہ جدید دور زیادہ سے زیادہ توانائی کے حصول اوراس کے استعمال کا دور ہے اس ورکشاپ کی مدد سے شرکاء کو ارضیا ت سے متعلق معلومات اور عملی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملے گااور انہیں ملک اور بیرون ملک ملازمتوں کے حصول میں کامیابی حاصل ہوگی۔موجودہ انتظامیہ اس طرح کی معلوماتی ورکشاپس اور سیمینار کے انعقاد کے لئے مکمل تعاون کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ طلباء مستقبل کے معمار ہیں ان کو نہ صرف نظری بلکہ عملی تعلیم اور تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ متعلقہ شعبے میں کامیابی سے کام کرسکیں۔شہر کی مختلف جامعات کے طلباء کی اس ورکشاپ میں شرکت اس بات کی غماز ہے کہ وہ اپنے شعبے کے بارے میںزیادہ سے زیادہ سیکھنے اور معلومات حاصل کرنے میں نہایت دلچسپی لیتے ہیں۔پروگرام سے رئیس کلیہ سائنس پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق ،کورس انسٹرکٹر ڈاکٹر ایاز عالم،صدر شعبہ ارضیات سیما ناز صدیقی اور انچارج محمد افضال نے بھی خطاب کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے اس موقع پر کہا کہ اس ورکشاپ میں بلوچستان یونیورسٹی ، کراچی یونیورسٹی اور دیگر جامعات سے بھی طلباء شرکت کررہے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔ شیخ الجامعہ نے شعبہ ارضیات کی لیبارٹری کو جدید آلات سے مزین کرنے کا وعدہ کیا ہے جو جلد پورا ہوگا۔پروگرام آرگنائزر محمد افضال نے کہا کہ اس ورکشاپ کے کورس انسٹرکٹر ایاز عالم نے ارضیات کی اعلی تعلیم کینیڈا سے حاصل کی ہے اور وہ بغیر کسی معاوضے کے اپنے ملک کے طلباء میں یہ علم منتقل کرنا چاہتے ہیں جبکہ بیرون ملک یہ کورس کثیر فیس کے عوض کرایا جاتا ہے۔

اس ورکشاپ کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی اور تکنیکس کو متعارف کرایا جائے گا جس سے طلباء کو ایسی زمین تلاش کرنے میں آسانی ہوگی جہاں سے توانائی کا حصول ممکن ہو۔سیما ناز صدیقی نے کہا کہ ارضیا ت کا علم جاننے اور سیکھنے کے لئے عرصہ درکار ہوتا ہے طلباء کو اس شعبے میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک بھی جانا چاہئے۔پانچ روزہ ورکشاپ سے طلباء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔۔ڈاکٹر ایاز عالم نے کہاکہ اس ورکشاپ میں زمین سے متعلق معلومات فراہم کی جائے گی ارضیا ت کے طلباء کے علاوہ یہ انجینئرنگ کے طلباء کے لئے بھی نہایت مفید ثابت ہوگی۔طلباء کو محدود وقت میں ارضیات کی عملی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔یہ ورکشاپ پانچ مئی تک جاری رہے گی۔