پاکستان آنے والوں کا خوش اخلاقی سے استقبال کیا جائے ،ْوزیر داخلہ کی امیگریشن حکام کو ہدایت

غیر ملکی مسافر کو ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ اور پاکستانیوں کو ’’ویلکم ٹو ہوم‘‘ کہا جائے، نئے ایئر پورٹ کا منصوبہ خراب حالت میں ورثہ میں ملا، نواز شریف نے اسے حقیقت کا روپ دیا ،ْنیو اسلام آباد ائیر پورٹ کے دورے کے دور ان گفتگو مسافروں کو نئے ایئر پورٹ سے پروازوں کے شیڈول سے آگاہ کرنے کیلئے اشتہار دینے اور ایئر پورٹ شٹل سروس چلانے کی بھی ہدایت

پیر اپریل 19:18

پاکستان آنے والوں کا خوش اخلاقی سے استقبال کیا جائے ،ْوزیر داخلہ کی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے امیگریشن حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان آنے والوں کا خوش اخلاقی سے استقبال کیا جائے ،ْغیر ملکی مسافر کو ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ اور پاکستانیوں کو ’’ویلکم ٹو ہوم‘‘ کہا جائے، نئے ایئر پورٹ کا منصوبہ خراب حالت میں ورثہ میں ملا، نواز شریف نے اسے حقیقت کا روپ دیا۔

پیر کو نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے دورہ کے دوران وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے نو تعمیر شدہ ایئرپورٹ کے مختلف حصوں بالخصوص امیگریشن کاؤنٹرز اور لاؤنجز کا معائنہ کیا اور وہاں تعینات سٹاف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اس موقع پر امیگریشن حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان آنے والوں کا خوش اخلاقی سے استقبال کیا جائے، ہر غیر ملکی مہمان کو ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ اور پاکستانی کو ’’ویلکم ٹو ہوم‘‘ کہا جائے تاکہ پاکستان آنے پر وہ خوشی اور عزت و احترام محسوس کریں اور پاکستان کا مثبت امیج اجاگر ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مہمانوں کیلئے کائونٹرز پر خوش اخلاق اور مستعد عملہ تعینات کیا جائے۔ انہوں نے امیگریشن عملہ سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ اپنے رویے اور اخلاق سے ملک کی عزت و وقار میں اضافہ کریں اور خود کو پاکستان کا سفیر سمجھتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کریں۔ وزیر داخلہ نے مسافروں کو نئے ایئر پورٹ سے پروازوں کے شیڈول سے آگاہ کرنے کیلئے اشتہار دینے اور ایئر پورٹ شٹل سروس چلانے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے فرسٹ اور بزنس کلاس سمیت تمام مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، لاؤنجز اور کاونٹرز کا بھی معائنہ کیا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کے ایئر پورٹ کے افتتاح پر وہ قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، یہ منصوبہ ہمیں انتہائی خراب حالت میں ورثے میں ملا تھا، نواز شریف کی ہدایت پر اسے 5 سالوں میں حقیقت کا روپ دیا گیا، یہ منصوبہ اس ترقی و خوشحالی کی علامت ہے جس پر ہم نے ملک کو گامزن کیا ہے۔