نواز شریف کی جرات کی وجہ سے سندھ کے عوام کو دہشت گردوں سے نجات ملی ،ْعلی اکبر گجر

وفاقی حکومت اور رینجرز کی راہ میں روڑے اٹکانے والی سندھ حکومت ہی کراچی میں خونریزی کی ذمہ دار تھی

پیر اپریل 19:25

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے کراچی میں امن کے قیام کے پیپلز پارٹی کے جھوٹ اور کھوکھلے دعووں کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے امن کو تباہ کرنے میں سندھ کی صوبائی حکومت بھی برابر کی حصے دار تھی․ پانچ سال مرکزی حکومت پر قابض رہنے والی پیپلز پارٹی کو کراچی کے عوام کی جان و مال کا احساس ہوتا تو 2013 سے پہلے ہی سندھ میں امن آچکا ہوتا․ کراچی کے عوا م کے مزاج اور مسائل سے ببلد پیپلز پارٹی نے کراچی کو ہمیشہ اپنے اقتدار کی سیڑھی بنا کر مقتدر اداروں کو بلیک میل کیا اور کراچی کے کروڑوں شہریوں کی جان و مال کا تاوان وصول کرتی رہی․ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کے رہنے والے محب وطن پاکستانی پیپلز پارٹی کے کردار سے بخوبی واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ کراچی کو سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بد امنی کا ایندھن بنائے رکھنا پیپلز پارٹی کی سیاسی ضرورت تھی․ پاکستان مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر نے کہا کہ قائد میاں محمد نواز شریف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرات کی وجہ سے سندھ کے عوام کو دہشت گردوں سے نجات ملی․وفاقی حکومت اور رینجرز کی راہ میں روڑے اٹکانے والی سندھ حکومت ہی کراچی میں خونریزی کی ذمہ دار تھی․ سندھ کی حکومت کے بچانے کے لئے پیپلز پارٹی نے کراچی کو دہشت گردوں اور قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا․ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی اہلیان کراچی کے ساتھ محبت کی وجہ سے میاں محمد نواز شریف نے 2013 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد سب سے پہلے کراچی کو دہشت گردوں اور قاتلوں سے نجات دلانے پر توجہ دی۔

(جاری ہے)

قائد میاں محمد نواز شریف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کراچی کے امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سندھ کی حکومت نے رینجرز کی مدت کے معاملے میں تاخیری حربے استعمال کرکے سبو تاژ کرنے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام ضروری قانونی، آئینی، مالی اور اخلاقی مدد فراہ م کر کے کراچی میں قیام امن کے لئے آپریشن کو کامیاب کروایا․ کراچی کا امن اور عوام کا تحفظ یقینی بنانے میں میاں محمد نواز شریف کا کردار تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا․