افغانستان کے مختلف علاقوں میں تین بم دھماکے ، طالبعلموں ، صحافیوں سمیت 49ہلاک

حملوں میں کم از کم 29 افراد کے ہلاک اور 45 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ ان اموات میں اضافے کا امکان ہے،افغان وزارت صحت

پیر اپریل 20:08

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) افغانستان کے دارالحکومت کابل اور صوبہ قندھار کے ضلع دامان میں 3 بم دھماکوں میں طالبعلموں اور صحافیوں سمیت 49 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔افغان میڈیا کی رپورٹ مطابق صوبے قندھار میں خودکش حملہ آور نے غیر ملکی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 20 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

مقامی حکام کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور نے صوبے کے ضلع دامان میں خود کو غیر ملکی سیکیورٹی فورسز کے قافلے کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔رپورٹ کے مطابق اس حملے میں دامان میں واقع ایک مدرسے کے 11 طالب علم کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔تاہم اس حملے سے متعلق ابھی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔دوسری جانب افغان دارالحکومت کابل میں 2 بم دھماکوں میں متعدد صحافیوں سمیت 29 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے۔

(جاری ہے)

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیر کی صبح افغان دارالحکومت کے علاقے ششدرک میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق پہلے دھماکے میں خودکش حملہ آور نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے دفتر کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس دھماکے کے 20 منٹ بعد دوسرا دھماکا ہوا، جس میں موقع پر موجود ریسکیو اہلکاروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حوالے سے افغان وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان دونوں حملوں میں کم از کم 29 افراد کے ہلاک اور 45 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ ان اموات میں اضافے کا امکان ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہلاک افراد میں ان کا فوٹو گرافر شاہ مرائی بھی شامل ہے جو دھماکوں کے وقت موقع پر موجود تھا۔

اس کے علاوہ مقامی نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے مطابق اس واقعے میں دیگر دو صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں۔تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوسرا دھماکا بھی خودکش تھا یا نہیں لیکن ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند گروپ داعش نے قبول کی ہے۔دریں اثنا افغان صوبے ننگرہار میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے بحسود ضلع کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہلاک جبکہ ضلع کے ڈپٹی گورنر اور دیگر 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حادثہ صبح 7 بجکر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ضلع گورنر کے کمپانڈ کے قریب گاڑی دھماکا خیز مواد سے ٹکرا گئی۔صوبائی گورنر آیت اللہ کے ترجمان نے دھماکے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی بھی ہوئے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاہم ابھی تک طالبان سمیت کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 22 اپریل کو کابل میں ووٹر رجسٹریشن سینٹر کے باہر خود کش دھماکا ہوا تھا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 57 افراد جاں بحق اور 119 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل 12 اپریل 2018 کو افغان صوبہ غزنی میں ضلعی حکومت کے کمپانڈ پر طالبان کی جانب سے کیے گئے حملے میں ضلعی گورنر اور پولیس اہلکاروں سمیت سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ 2 اپریل کو افغان حکام نے ملک کے شمالی علاقے میں طالبان کے تربیتی کیمپ پر فضائی حملے میں 20 شرپسندوں کے ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کرنے کا دعوی کیا تھا۔۔