تاریخی مقامات کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے پر مودی سرکار پر تنقید

مودی سرکار ثقافتی ورثہ تاج محل سمیت دیگر تاریخی مقامات کو نجی اداروں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے،اپوزیشن

پیر اپریل 23:18

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تاریخی مقامات نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے ، بھارتی حکومت پر الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ ملک کے ثقافتی ورثہ تاج محل سمیت دیگر تاریخی مقامات کو نجی اداروں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کو متنازع اسکیم ثقافتی ورثہ گود لو پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس سے قبل اپوزیشن میں سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر 95 تاریخی مقامات کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔۔بھارتی محکمہ ٹورزم نے 28 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ دہلی کے لال قلعہ کو ڈالمیا گروپ کو پانچ سال کے لیے 25 کروڑ روپے میں ٹھیکے پر دے دیا جائے گا جس کے بعد اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مذکورہ کمپنی پر عائد ہوگی۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے بتایا گیا کہ تاج محل اور یونیسکو کی فہرست میں شامل قطب مینار کی نجکاری کے لیے بڑی کمپنیاں متحرک ہیں۔خیال رہے کہ لال قلعہ مغل بادشادہ شاہ جہاں نے 1693 میں تعمیر کرایا جو یونیسکو کی فہرست میں شامل ہے جہاں بھارتی وزیراعظم ہر سال یوم آزادی پر خطاب کرتے ہیں۔حکومت کے مطابق مذکورہ اسکیم کے تحت کمپنی کو صرف لال قلعے کی دیکھ بھال اور انتظام کا حق حاصل ہوگا۔

ڈالمیا گروپ پر حکومت کی نگرانی قائم رہے گی اور گروپ قلعہ میں کچھ اشتہارات لگانے کے علاوہ ٹکٹ کی قیمت طے کر سکے گا۔حکومتی حکام کے مطابق تمام اقدامات تاریخی مقامات کی بہتری کے لیے اٹھائے جارہے ہیں جبکہ کمپنیز کو اسکیم کے تحت کمائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ بولی کے ذریعے تاریخی مقامات کی نجکاری کی جارہی ہے۔

اپوزیش جماعت نے حکومتی فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قومی ورثے کو کمپنیوں کے حوالے کرنے کے بجائے ان کے لیے مزید فنڈز جاری کرے۔مغربی بنگال کی ریاست کے وزیراعلی ممتا بنیرجی نے نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے کو تاریخ کا افسوس ناک اور بدترین دن قرار دیا اور کہا کہ قومی ورثے کو کیوں ٹھیکے پر دیا جارہا ہے۔۔دہلی سے تعلق رکھنے والے سماجی رکن رانا صفی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تاحال یہ واضح نہیں کہ کمپنیاں مذکورہ مقامات کی نگرانی کس طرح کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ ادارہ تاریخی مقامات کی دیکھ بھال کے لیے کتنی رقم خرچ کرے گا اور یقینا وہ ٹکٹ کی مد میں خرچ کی گئی رقم سے زیادہ کمائیں گے۔حکومت کے مطابق اسکیم کے تحت کمپنیاں تاریخی مقامات سے متعلق مکمل معلومات پر مبنی کتابچہ شائع کریں گی۔