جذبہ حب الوطنی کوعملی طور پر ثابت کرنے کی ضرورت ہے ،ڈاکٹر اجمل خان

نوجوانوں نے دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے کراچی تاکشمور اتحاد کی ایک زنجیر بنائی ہے جسے دشمن کبھی نہ توڑسکے گا،ڈاکٹر احمد قادری

پیر اپریل 23:38

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اپریل2018ء) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نے کہا کہ ہمیں اپنے جذبہ حب الوطنی کوعملی طور پر ثابت کرنے کی ضرورت ہے ،عمل کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد کوئی دشمن ہمارامقابلہ نہیں کرسکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے اپنا اپنا کردار اداکریں ،میں عمل اور سوچ میں تبدیلی دیکھ رہاہوں ،اس طاقت کو مثبت سمت میں لے جانے کے لئے علمی اور نظریاتی جنگ لڑنی ہوگی ۔

اپنے آپ کو علمی اور معاشرتی طو ر پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جو ایک ترقی یافتہ معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ معارف اسلامیہ اور کلیہ فنون وسماجی علوم کے اشتراک سے کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ کانفرنس بعنوان: ’’پیغام پاکستان اور ہمارا نوجوان‘‘ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر اجمل خان نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہے،جس قوم کے نوجوان بیدار و باشعور ہوں، اس کا مستقبل محفوظ اور تابناک ہوتا ہے ، نوجوانوں کا فعال کردار ہی قومی کا ضامن ہے۔ یقیناً پاکستانی نوجوانوں میں ایک عزم و حوصلہ موجود ہے لیکن انھیں تربیت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ تعمیر پاکستان کے لیے نوجوانوں کو قلم اور کتاب سے رشتہ استوار کرنا ہوگا، علمی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہوئے غفلت اور لاپروائی کے رویے کو ترک کرنا ہوگا۔

رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری نے کہا کہ ہمارا یہ قومی فریضہ ہے کہ ہم اجتماعی طور پر پاکستان کے پیغام کو گھر گھر نفرت وعصبیت کے خاتمے کے لئے پہنچائیں۔نظریہ پاکستان سے ہمیں عملی طور پر جڑنا ہوگاتاکہ دہشت گردی اور جنون کی فضا ء سے ہم باہر آجائیں،،پاکستان نے اپنے وجود سے انسانیت کی خدمت کی ہے اور خاص طور پر نوجوانوں نے دہشت گردی کو شکت دینے کے لئے کراچی تاکشمور اتحاد کی ایک زنجیر بنائی ہے جسے دشمن کبھی نہ توڑسکے گا۔

اس موقع پر ڈاکٹر محمد احمد قادری نے پیغام پاکستان فورم کے قیام کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ اس طرح کے پیغام پاکستان پروگرامز ملک کی تمام جامعات میں کئے جائیں گئے تاکہ نوجوانوں کی مدد سے ایک تعلیمی اور نظریاتی انقلاب لایا جاسکے جس میں صرف پاکستان اور پاکستان ہی ہمارا محور ہو۔ ڈائریکٹر اسلامک ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ریسرچ سینٹرہیوسٹن امریکہ کی صدف اکبانی نے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے اور سب ایک پرچم تلے جمع ہیں۔

ہماری پاک فوج ہمارے ملک کی حفاظت کررہے ہیں اور ہرقسم کے خطرات سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمہ وقت تیاررہتے ہیں ۔انہوں نے امریکہ سے پاکستان کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہم ہر سال پاکستان میں یوم آزادی مناتے ہیں امریکہ میں اس طرح کی کوئی تقریب نہیں ہوتی۔ عصر حاضر میںعلامہ اقبال کے پیغام کو نوجوا ن نسل تک احسن طریقے سے پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔

کلام اقبال ہی کے سہارے سے قوم کے مستقبل کو ملک و قوم کی تعمیر میں مگن کر سکتا ہے۔مفتی احمد افنان نے کہا کہ میثاق مدینہ اسلامی کی پہلی قرارداد تھی اور قرارداد مقاصد پاکستان کی قرارداد ہے۔میراکلمہ میرا عقیدہ ہے ،انسانیت اور ذات پات کے نعروں کو رسول اکرمﷺ نے ناپسندیدہ قراردیا،لہذا ہمارا نعرہ بھی ایک ہونا چاہیئے یعنی پاکستان زندہ باد ۔

پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دونوں خطروں کا سامنا ہے ،بیرونی خطرے کو تو ہم نے مارڈالا جبکہ اندرونی خطرہ جو کہ پاکستان کو لاحق ہے ،اس سے پاکستا ن کو بچانا ہے۔۔ڈاکٹر سعید احمد سعیدی نے کہا کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو امت بن کرسوچیں ،حضور ﷺ کی ذات پر نظرپڑتی ہے تو امت بنتی ہے،نیچے پڑتی ہے تو فرقے بنتے ہیں ۔ہمیں اپنے اندر اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے،،پاکستان مذہب اسلام اور اسلام سراپا سلامتی ہے۔

ہر شخص اپنے حصے کا کام کرے تو پاکستان ترقی کرے گا۔پروفیسر ڈاکٹر سلطان شاہ نے قائد اعظم کی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم پاکستان کہ ہر شعبہ زندگی میں اسلامی نظریے کے مطابق اصول وقوانین نافذ کرنا چاہتے تھے۔اگر علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار کو سمجھیں تو قوم کو پتہ چلے گا کہ پاکستان کیسے بنا ۔

میری دعا ہے کہ پاکستانیت کا پیغام ملک کے کونے کونے میں گونجتارہے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ عمرانیات کی ڈاکٹر ثوبیہ شہزاد نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ہمارانوجوا ن ہے اور تعمیر پاکستان ہی ہماری منزل ہے، اس منزل تک رسائی ممکن ہے کیونکہ علامہ اقبال کے خواب کی سرزمین یعنی پاکستانی فضائوں میں عدل و انصاف کی بہار کی اساس فکر اقبال ہے، جو بزرگوں کے نقش قدم کی پیروی کرنا ہے