سکھر میونسپل کارپوریشن کی کونسل کا پانچواں عمومی اجلاس ، 13 کروڑ روپے کی لاگت سے 44 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

منگل مئی 00:10

سکھر۔30اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) سکھر میونسپل کارپوریشن کی کونسل کا پانچواں عمومی اجلاس میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ کی صدارت میں ہوا جس میں ڈپٹی میئر طارق چوہان ، میونسپل کمشنر منصور احمد سومرو اور چیئرمین عبدالخالق جتوئی ، محمد حنیف میمن، محمد جاوید میمن ، محمد فرید صدیقی ، مختیار احمد کمبوہ ، احسان احمد لاشاری ، اجمل خان ، محمد عرفان راجپوت ، وزیر علی مہر ، مختیار احمد کھوکھر ، سید نسیم احمد ہاشمی ، محمد یاسین آرائیں، عبدالرحمن صدیقی ، عزیز اللہ خان ، امیر بخش عرف میر مہر ، شفیق احمد پیرزادہ ، ذوالفقار علی قریشی ، غلام مرتضیٰ گھانگھرو، فراز احمد ماکو، ڈاکٹر علی نواز کھوسو ، عابد گل مہر، میر عبدالرحمن مینگل ، اشفاق علی میرانی ، پیہرالدین بروہی ، لیبر ممبرشفقت علی ، یوتھ ممبر بہاول علی سرہیو، اقلیتی ممبر ایشور لال ، خواتین ممبرز ممتاز بیگم ، خالدہ صدیقی ، عذرا جمال ، ماریہ احسان ملک ، کیتھرین ، قمرالنساء پھلپوٹو ، زینت بانو بھنبھرو ، زاہدہ ، غزالہ کاشف صدیقی اور بلدیہ افسران نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اجلاس کے دوران کونسل میں ایجنڈا میں شامل 17 انتظامیہ کمیٹیوں اور سب کمیٹیوں کی تشکیل کا اختیار میئر سکھر کو دیا ، ایجنڈے میں شامل 11 تجاویز سمیت پیش کی گئی تمام تجاویز کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا جن میں اے ڈی پی فنڈز کی 13 کروڑ روپے کی لاگت سے 44 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی ، ترقیاتی کاموں کے لئے ایک کنسلٹنگ فرم ، آر سی سی کنسٹلٹس اور پبلک ریلیشن کے لئے کنسلٹنٹ فرم کو مقرر کرنے کی منظوری دی ، صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے ، پی ایس ایل میچ ، یوم بانی پاکستان ، پشاور کے شہید طلباء سے اظہاریکجہتی کیلئے تقریب سمیت اس دوران کئے جانے والے مختلف پروگراموں کی منظوری دی جبکہ ہیلتھ برانچ اور ڈرینج اسٹیشنز کے لئے فیول کے اخراجات میں اضافہ منظور کرلیا گیا ، کچی آبادیوں کے لئے نرخوں کے تعین کا اختیار کچی آبادی کمیٹی کو دیا گیا ۔

اجلاس میں 2017-18 ء کے بجٹ کے لئے ممبران کی تجاویز بھی مانگی گئیں جبکہ عارضی طور پر بھرتی کئے گئے سینیٹری ورکرز کو اجرت کی ادائیگی کی منظوری دی گئی ، سینیٹری انسپکٹرز کو موٹر سائیکلوں کے لئے اضافی فیول دینے کی بھی اجازت دی گئی ، سائٹ میں میونسپل کارپوریشن کی سینیٹیشن کی گاڑیاں کھڑی کرنے والے پلاٹ کے کرائے کی منظوری دی گئی تاہم نئی جگہ تلاش کرنے کے لئے بھی کہا گیا ۔

اس موقع پر میئر سکھر نے کہا کہ تمام کمیٹیاں با اختیار ہونگی اور پانی کی فراہمی کے لئے ہر سطح پر اقدامات کئے جائیں گے ، ہر یو سی کو 3 سے 4 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کے لئے جبکہ کچرا اٹھانے کے لئے 30 نئی چنگچیاں دی جائیں گی۔ میئر سکھر نے کہا کہ سکھر میونسپل کارپوریشن کے تیزی سے جاری ترقیاتی کاموں کی وجہ سے شہری مسائل تیزی سے حل ہورہے ہیں ، ہر یونین کونسل میں روزانہ اسٹریٹ لائٹس لگائی جارہی ہیں جبکہ مختلف یوسیز میں نکاسی و فراہمی آب کے منصوبے کے تحت نئی لائنیں ڈالی جارہی ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ کارپوریشن میں ویجیلنس اور میرٹ کا نفاذ ناگزیر ہے تاہم اس کے لئے سب کو سختی سے عمل کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹری ورکرز کی کمی کو پورا کرنے کے لئے بھرتی کئے گئے سینیٹری ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کردی جائے گی البتہ غیر حاضر یا غیر فعال سینیٹری ورکرز کو ملازمت سے برخواست کیا جائے گا ۔ اس موقع پر کمیٹیز کے چیئرمین صاحبان نے مختلف تجاویز اور علاقائی مسائل پیش کئے جن میں اسٹریٹ لائٹس ، سڑکوں کی مرمت ، مین ہولز ، نالیوں اور فراہمی و نکاسی آب کی لائنوں اور دوسرے کام شامل ہیں میئر سکھر نے ان کی منظوری دیدی ۔

میئر سکھر نے کہا کہ ہائوس بلڈنگ لون اور میڈیکل بلز کی ادائیگی کے لئے واضح پالیسی بنائی جائے جبکہ سینیٹری انسپکٹرز سمیت ملازمین کی ترقی کے لئے قانون کے مطابق یکساں پالیسی بنائی جائے ، مینارٹی کے لئے دیوالی ویلفیئر فنڈ میں 5 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی جبکہ مینارٹی فنڈ میں 50 لاکھ روپے دینے اور دفتر فراہم کرنے کی بھی اجازت دی گئی ۔

میئر سکھر نے کہا کہ ہم نے واٹر ورکس فیز III کیلئے بجلی کا الگ فیڈر 6 کروڑ روپے کی ادائیگی سے منظور کرالیا ہے جبکہ فیز III کیلئے پاک کیبل سے 45 لاکھ روپے کا کیبل خریدا گیا ہے ، اس موقع پر چیئرمین صاحبان نے مختلف تجاویز پیش کیں ، ڈپٹی میئر طارق چوہان کی پیش کردہ تمام تجاویز جن میں پاکستان سوئٹ ہوم کیلئے ایک طالب علم کو غیر ملکی تعلیم کے اخراجات دینے کی منظوری ، لائبریری کیلئے کتب کی خریداری اور سوئٹ ہوم کی عمارت کے گرد درخت لگانے کی منظوری دی ، کت کی خریداری خواتین کونسلرز کریں گی جو سوئٹ ہوم کا وزٹ بھی کریں گی، اور زرعی مارکیٹ کی تجاویز کو بھی منظور کرلیا گیا ۔

میئر سکھر نے غیر معیاری اشیاء خورد و نوش اور دودھ سے بننے والی اشیاء کے نمونے لیکر لیبارٹری بھجوانے کی تاکید کی، جبکہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی مرمت ،20 نئے ٹائر خریدنے کی اجازت دی گئی ۔ ایم ایل اے کو ہدایت کی گئی کہ وہ اجلاس کا کوڈ آف کنڈکٹ بنا کر دیں ۔