بجٹ 2018-19 میں جو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں اس سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی،ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوگا،حالیہ بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے، محصولات کے ہدف میں 11.2 فیصد اضافہ کیا جائے گا،سندھ حکومت سے کہا ہے کہ اگر آپ گرین بسیں نہیں خرید سکتے تو وفاق دینے کو تیار ہے

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کاکراچی میں پوسٹ بجٹ سیمینار سے خطاب

منگل مئی 00:50

کراچی ۔ 30 اپریل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ بجٹ 2018-19 میں جو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں اس سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی اور ٹیکس دینے والوںکا اضافہ بھی ہوگا، پاکستان کی ترقی کا دارومدار زراعت کے شعبے میں ہے، ہمارا کسان بہت غریب ہے، اس سال 3.8 فیصد زرعی ترقی ہوئی ہے جو کہ مزید ہونی چاہئے تاکہ معیشت ترقی کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو مقامی ہوٹل میں دی انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان ساؤتھ ریجنل کمیٹی کی جانب سے منعقدہ پوسٹ بجٹ 2018-19 کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر آئی کیپ ریاض الرحمان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ اجلاس سے قبل مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ہر صوبے سے سالانہ ایک سو ارب روپے مانگے گئے تھے لیکن تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اجلاس کا بائیکاٹ کر کے چلے گئے تھے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پانچ سالوں میں ریونیو کو تقریباً ڈبل کر دیا ہے اور بجٹ میں بھی جو مراعات دی گئی ہیں اس سے فائدہ ہوگا نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سندھ حکومت کو جو وفاق نے دینے تھے 600 ارب روپے دئیے گئے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجٹ میں کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے سمندر سے 50 ملین گیلن پانی روزانہ شہریوں کو قابل استعمال بنا کر فراہم کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں گرین لائن کے منصوبے کیلئے وفاقی حکومت نے 16 ارب روپے دئیے ہیں جبکہ دیگر صوبوں نے اپنے بجٹ سے گرین لائن بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں سندھ حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آپ گرین بسیں نہیں خرید سکتے تو وفاق دینے کو تیار ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ حالیہ بجٹ کے ملکی معیشت پر بہتر اثرات مرتب ہونگے اور بجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ بجٹ میں مجموعی شرح نمو بڑھانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی گاڑیاں یا جائیداد خریدنے والے کو ٹیکس نیٹ میں آنا ہوگا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حالیہ بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن کا پراپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ محصولات کے ہدف میں 11.2 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے شرح نموکا ہدف 6.25 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی کلیکشن پچھلے 5 سال میں ڈبل کر دی گئی ہے۔ پاکستان میں بجلی اور گیس کے مسائل حل کئے گئے ہیں، موٹر ویز کے جال بچھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ بہت معقول ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کیا گیا ہے، جس سے لوگوں میں بہتر طریقے سے کام کرنے کا شوق پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں اس سال تین اعشاریہ آٹھ فیصد گروتھ ہوگی، ڈیوڈنڈ کم کیا گیا ہے۔ تقریب میں اس سے پہلے ٹیکس ماہرین اور تاجروں کے الگ الگ سیشن ہوئے، جس میں بجٹ سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے تاجروں اور صنعتکاروں سے بہتری کی تجاویز بھی طلب کیں۔