فلسطینی ٹرمپ کی تجاویز قبول کریں یا منہ بند رکھیں، سعودی ولی عہد

فی الحال سعودی عرب خطے میں ایرانی اثر و رسوخ جیسے اہم امور سے نمٹنے میں مشغول ہے،یہودی رہنمائوں سے گفتگو

منگل مئی 12:01

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) اسرائیلی ٹی وی نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ ماہ نیویارک میں یہودی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ایک ملاقات میں فلسطینی رہنماؤں پر شدید تنقید کی تھی۔۔اسرائیل کے ٹی وی کے مطابق سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے نیویارک میں یہودی اداروں کے سربراہان سے بند دروازوں کے پیچھے کی گئی ایک ملاقات کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ فلسطینی صدر ٹرمپ کی امن سے متعلق تجاویز قبول کریں یا اپنا منہ بند رکھیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان (جنہیں ایم بی ایس بھی کہا جاتا ہی) کے بیانات کی تصدیق نیویارک سے اسرائیلی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی ایک کیبل کے علاوہ تین دیگر ذرائع نے بھی کی تھی۔

(جاری ہے)

ان ذرائع کے مطابق محمد بن سلمان نے یہودی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کہاکہ گزشتہ دہائیوں کے دوران فلسطینی رہنماؤں نے یکے بعد دیگرے امن کے کئی مواقع گنوائے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی (صدر ٹرمپ کی پیش کردہ) تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آئیں یا پھر وہ اپنا منہ بند رکھیں اور شکایت کرنا بند کریں۔

بق مذکورہ ملاقات کے دوران محمد بن سلمان نے یہودی تنظیموں کے رہنماؤں کو یہ بھی بتایا کہ فلسطین کا معاملہ سعودی عرب اور اس کے عوام کی ترجیحات میں فی الوقت شامل نہیں ہے کیوں کہ ان کا ملک خطے میں ایرانی اثر و رسوخ جیسے اہم امور سے نمٹنے میں مشغول ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن عمل میں کسی واضح پیش رفت کے بغیر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات شروع نہیں کیے جا سکیں گے۔