معاہدہ ٹوٹنے پر یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی ایرانی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی صائب فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ

منگل مئی 12:01

انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ عالمی طاقتوں نے تہران کے ساتھ کیے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ایران کے پاس یورینیم افزدوگی کا عمل بحال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا۔۔ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کردہ ایک بیان میں علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ تکنیکی اعتبار سے ایران کے لیے یورینیم افزودگی پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہوگئی ہے۔

(جاری ہے)

اگر تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہم بڑے پیمانے پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم افزودہ کریں گے۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ وہ جوہری سمجھوتے سے باہر نکلنے کے نتائج سامنے رکھیں۔ اگر ہمارے ساتھ طے کردہ معاہدہ ٹوٹتا ہے تو ہم بلا تاخیر بڑے پیمانے پر یورینیم افزدوہ کریں گے۔علی اکبر صالحی نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا جلد ی اس معاہدے سے الگ ہوجائے گا جس کے بعد اس کے قائم رہنے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی صائب فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔