نئے اسلام آباد ایئر پورٹ سے نہ صرف وفاقی دارالحکومت بلکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بڑے حصوں کیلئے بھی فضائی سفر میں سہولت دستیاب ہوگی ،

نئے ایئر پورٹ کی تکمیل سے گذشتہ پانچ سال کے دوران حکومت کی کارکردگی کا اظہار ہوتا ہے یہ منصوبہ سی پیک کے روڈ کے نزدیک ترین ہے جس سے اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

منگل مئی 13:40

نئے اسلام آباد ایئر پورٹ سے نہ صرف وفاقی دارالحکومت بلکہ خیبر پختونخوا ..
اسلام آباد ۔ یکم مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) نئے اسلام آباد ایئر پورٹ سے نہ صرف وفاقی دارالحکومت بلکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بڑے حصوں کیلئے بھی فضائی سفر میں سہولت دستیاب ہوگی، وزیراعظم کے مشیر برائے ہوا بازی سردار مہتاب کی قیادت میں سول ایوی ایشن اتھارٹی( سی اے ای) نے منصوبہ کو ایک چیلنج سمجھ کر مکمل کیا ہے جس کے نتیجے میں آج ایک بین الاقوامی معیار کا ایئر پورٹ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے،نئے اسلام آباد ایئر پورٹ سے ملک کے دیگر ایئر پورٹس پر مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر معیاری خدمات کی فراہمی میں رہنمائی حاصل ہوگی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے منگل کو نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ سی اے اے اور فضائی سفر آج کے دور کی ضرورت ہے اور کسی بھی ملک کی ایوی ایشن نہ صرف اپنے ملک کی ثقافت کی عکاس ہوتی ہے بلکہ یہ اقتصادی ترقی کا گیٹ وے بھی ہے جس سے ملک میں معاشی ترقی کی عکاسی ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ نئے ایئر پورٹ کی تکمیل سے گذشتہ پانچ سال کے دوران حکومت کی کارکردگی کا اظہار ہوتا ہے یہ منصوبہ سی پیک کے روڈ کے نزدیک ترین ہے جس سے اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے نہ صرف سالوں سے زیر التواء منصوبوں کو مکمل کیا بلکہ کئی نئے منصوبے شروع کر کے ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج اس ایئر پورٹ کا افتتاح ہوا جبکہ ماضی میں ملتان اور فیصل آباد کے ایئر پورٹس پر جدید ترین سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ان میں توسیع کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ کوئٹہ اور پشاور ایئر پورٹس پر توسیع منصوبہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

اسی طرح لاہور ایئر پورٹ پر 500 ملین ڈالر کی لاگت سے توسیع منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ رواں سال کے دوران ہی گوادار ایئر پورٹ پر بھی کام شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سیالکوٹ کا ایئر پورٹ اگر عالمی سطح پر نہیں تو ریجن نجی شعبہ کے زیر انتظام چلایا جانے والا کامیاب ترین منصوبہ ہے جس کو وسیع کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہماری حکومت کی کامیابیاں ہیں کہ اس نے نہ صرف سول ایوی ایشن بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں میں کئی بڑے منصوبے مکمل کئے ہیں جن میں 1700 کلو میٹر طویل موٹرویز کی تعمیر پر کام جاری ہے اس کے علاوہ پشاور تا کراچی ہائی وے کو مکمل کرنے کے علاوہ ملک کے تمام صوبوں میں ہزاروں کلو میٹر طویل شاہراہوں کی تعمیر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گوادر کی بندرگاہ کو آپریشنل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کو بھی حقیقت کا روپ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمارے دور حکومت میں 10ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی قومی گرڈ میں شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ہم کہہ سکتے ہیں ملک میں ہر صارف کو گیس اور بجلی دستیاب ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے نہ صرف موجودہ وقت کے لئے توانائی کی طلب اور رسد میں فرق کو ختم کیا ہے بلکہ مستقبل کیلئے بھی یہ فرق ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تھر میں کوئلے کے ذخائر سے استفادہ کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں اور تھر میں کوئلے سے توانائی کے حصول کے کئی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے سول ایوی ایشن کی کوششیں قابل قدر ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 2013ء میں جب ہماری حکومت آئی تو یہ منصوبہ مکمل کرنا نا ممکن نظر آ رہا ہے تھا لیکن متعلقہ اداروں کی کاوشوں سے اس کو مکمل کیا گیا جس کی تکمیل آسان نہ تھی۔ وزیراعظم نے کہاکہ تنقید کرنا آسان ہے لیکن کام کرنا مشکل ہے۔ جدید ترین ایئرپورٹ کا قیام ایک مشکل ٹاسک تھااور اس منصوبہ کو حقیقت میں بدلنے کے حوالے سے سی اے اے کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔

انہوں نے ہدایت کی ملک میں ایوی ایشن کی پالیسی کو مزید آسان اور لبرل بنایا جائے اور پالیسی سازی کے وقت اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ فضائی مسافروں اور ایئر لائنز کو سہولیات دستیاب ہوں جس سے ملک میں فضائی ٹریفک اور مسافروں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں ہوا بازی کے شعبے کی ترقی کیلئے سی اے اے کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی سطح کی سہولیات فراہم کرکے مارکیٹ کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے کہاکہ چیلنجز سے مقابلہ کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہوا بازی کے شعبہ میں ہونے والی ترقی سے سیکھتے ہیں ہمیں بھی تبدیلیاں لانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر لائنز کو سہولیات کی فراہمی ایوی ایشن سیکٹر کی ترقی میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ مسافروں کی سہولیات اور ایوی ایشن قوانین میں آسانی سے شعبہ مزید ترقی کرے گی اور ملک میں شعبہ کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جس کے پیش نظر ایئر پورٹس بھی جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ توقع ہے سی اے اے اس سلسلے میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہر نئے منصوبے کے آغاز میں مسائل درپیش ہوتے ہیں لیکن توقع ہے کہ ان کے خاتمے کیلئے جلد ازجلد اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اس نئے منصوبے کے آغاز میں بھی بعض چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ سی اے اے نے اسلام آباد،، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے عوام کو جدید ترین ایئر پورٹ دیا ہے جو علاقے کی ترقی میں اضافہ اور روزگار کی فراہمی میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ یہ ایئر پورٹ ملک کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے کہاکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل صرف جمہوریت کا ثمر ہے اور ہم نے ماضی میں جمہوریت سے ہٹنے کی وجہ سے ترقی نہیں کی۔

ا نہوں نے کہاکہ کسی ملک نے بھی جمہوریت کے بغیر ترقی نہیں کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں آئین، جمہوریت اور پارلیمان کا کردار انتہائی اہم ہے اور جب ملک کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریںگے تو ترقی ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کا سفر جاری رہنے سے ہی معاشی ترقی کے خواب کو حقیقت میں بدلہ جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے قومی معیشت کی شرح نمو کو 3فیصد سے 6 فیصد بڑھایا ہے اور ترقی کا یہ سفر جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے قومی معیشت کی ترقی کیلئے ایسے منصوبے بھی مکمل کئے ہیں جن کی 65 سال میں نظیر نہیں ملتی ان میں موٹرویز، گیس، بجلی،، بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت دیگر کئی شعبوں کے منصوبے شامل ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکومت نے پانچ سال میں جو کام کیا ہے وہ ماضی کے 65 سالوں میں نہ ہوسکا۔ انہوں نے تنقید کرنے والوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس حوالے سے پارلیمان سمیت کسی بھی فورم پر بات کریں۔

انہوں نے کہاکہ جب 2013ء میں ہماری حکومت آئی تواس منصوبے تک رسائی کا کوئی پلان نہ تھا اور اگر ہماری حکومت نئے سرے سے یہ منصوبہ شروع کرتی تو دو سال میں مکمل کر لیتی لیکن ہم نے تنقید کے باوجود بھی اس کو مکمل کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) اپنے ریکارڈ پر قائم ہے اور ہم نے ڈلیور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر نئے ایئر پورٹ تک رسائی کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کا جدید ترین نظام فراہم کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو جدید سہولتیں دے سکیں انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں کہیں بھی ایسا ایئر پورٹ نہیں جہاںپر عام مسافر کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کی جدید ترین سہولت دستیاب نہ ہو اور اس سہولت کی فراہمی کا کام بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ نئے ایئرپورٹ کے آپریشنل ہونے سے دنیا کی مزید ایئر لائنز اور فضائی مسافر آئیں اور یہ ایئر پورٹ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے منصوبہ کی تکمیل کیلئے مشیر ہوا بازی سردار مہتاب اور سی اے اے سمیت دیگر شراکت داروں کے کردار کو سراہا۔ تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب،، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال،،کیڈ ڈویژن کے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی،،گورنر پنجاب رفیق رجوانہ،، گورنر خیبر پختونخوا قبال ظفر جھگڑا،مشیر ہوا بازی سردار مہتاب احمد عباسی اور میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز سمیت سول ایوی ایشن اتھارٹی اور مختلف اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے منصوبہ کی تکمیل کیلئے خدمات سرانجام دینے والے حکام،اہلکاروں کو شیلڈز بھی دیں۔