پی ٹی آئی کی جانب سے صوبائی بجٹ پیش نہ کئے جانے کا امکان ، حتمی اعلان آئندہ ہفتے ہوگا

خیبر پختونخوا حکومت نے بجٹ پیش کرنے کا ارادہ ترک کردیا ہے، محکمہ خزانہ کو بجٹ سے متعلق زبانی مطلع کردیا ہے تاہم کوئی دستاویزات سامنے نہیں آئے،پارٹی عہدیدار

منگل مئی 15:26

پی ٹی آئی  کی جانب سے صوبائی بجٹ پیش نہ کئے جانے کا امکان ، حتمی اعلان ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف ((پی ٹی آئی)) کی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر صوبائی بجٹ پیش نہ کیے جانے کا امکان ہے، اسمبلی میں بجٹ سے متعلق اجلاس 14 مئی کو طلب کیا گیا ہے لیکن حکومت کو ایوان میں معمولی اکثریت حاصل ہے اور اسی لیے بجٹ پیش کرنے پر خوف محسوس ہو رہا ہے۔۔ایک عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بجٹ پیش کرنے کا ارادہ ترک کردیا ہے اور محکمہ خزانہ کو بجٹ سے متعلق زبانی مطلع کردیا ہے تاہم کوئی دستاویزات سامنے نہیں آئے۔

ذرائع نے بتایا کہ بجٹ سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے آنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی کل 124 نشستیں ہیں، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں 20 رکن صوبائی اسمبلی کی نشاندہی کے بعد پی ٹی آئی کو 45 نشستیں حاصل ہیں۔

(جاری ہے)

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا سیاسی اتحاد ہے تاہم امکان ہے کہ جماعت اسلامی کے 8 قانون ساز اگلے چند دنوں میں حکومت کے ساتھ سیاسی اتحاد ختم کرکے مذہبی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل میں شمولیت اختیار کرلیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اگر اس مرتبہ اسمبلی سے بجٹ پاس نہیں ہوا تو صوبائی حکومت کا وجود باقی نہیں رہے گا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی نے اگلے مالی سال سیمتعلق پیش کردہ وفاقی بجٹ کی شدید تنقید کی تھی تاہم اب اگر پی ٹی آئی صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتی ہے تو یہ بڑی تضحیک کی بات ہوگی۔دوسری جانب وزیراعلی کے ترجمان ایم بی اے شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ حکومت بجٹ کے مخالف نہیں تھی لیکن یہ فیصلہ ہوا تھا کہ بجٹ اپوزیشن پارٹی کی موجودگی میں پیش کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی موجودہ حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کے لیے ڈیولپمنٹ پروگرامز پیش کرنے کے مخالف رہی کیونکہ یہ صرف انتطامی بجٹ ہونا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں سالانہ ڈیولپمنٹ پروگرامز اسکیم اپنے لیے چاہتی تھیں جو کہ یقینا بلیک میلنگ تھی۔۔