پیپلز پارٹی نے پاکستان کی اساس کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی،خالد مقبول صدیقی

منگل مئی 15:28

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) متحدہ قومی مومنٹ بہادرآباد کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پاکستان کی اساس کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی اور آج بھی اس کا دل پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگاتا ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے بجائے آپ نے گولی، کفن اور قبرستان دیا ،جبکہ بلاول بھٹو کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ لیاری میں جلسہ کرکے دکھائیں، خاندانی سیاست کرنے والوں کی اپنی فیملی کسی کے قبضے میں ہے، پیپلز پارٹی پر قبضہ گروپ قابض ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران متحدہ قومی مومنٹ بہادر آباد کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 40 سال بعد لیاقت آباد میں جلسہ کیا اور امید تھی کہ پیپلزپارٹی شاید مثبت سوچ کے ساتھ کراچی پیکیج کا اعلان کرے گی، لیاقت آباد کیلئے کسی یونیورسٹی کا اعلان ہوگا لیکن پیپلزپارٹی نے دل جلانے والی باتیں کی۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں لگا کہ پیپلز پارٹی نفرتوں کی خلیج کو کاٹنے میں کام کرے گی لیکن آپ نے نفرتیں پھیلائیں، آپ ادھر تم اور ادھر ہم کے نعرے سے باہر نہیں آئے، ہم پیپلزپارٹی کو ان کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اس کا جواب بھی لیاقت آباد میں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کے بجائے آپ نے گولی، کفن اور قبرستان دیا، پی پی پی نے پاکستان کی اساس کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کی جب کہ پیپلز پارٹی کا دل پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگاتا ہے، آپ کے نفرت بھرے نعرے نے پاکستان کو تقسیم کردیا، پی پی پی نے سندھ سے مہاجروں کے جنازے نکالے، آپ لوگ اردو کا جنازہ نکال سکے یا نہیں لیکن اردو بولنے والوں کا جنازہ نکال دیا۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ یہ بنگالیوں کو پاکستان سے علیحدہ کرنے میں سازشی و معاون رہے، گینگ وار پیپلز پارٹی کا عسکری ونگ تھا، پی پی کو شہروں سے کبھی مینڈیٹ نہیں ملا، جب محلہ محلہ محصور تھا تو کیا سندھ کے شہری علاقوں نے ایم کیوایم کو چھوڑدیا، مئی 1990 میں حیدر آباد میں سینے سے قرآن لگائے ماں سے کیا کیا گیا، پیپلز پارٹی نے 1994 سے 1996 کے دوران کراچی کی مانگ خون سے بھری۔۔خالد مقبول صدیقی نے بلاول بھٹو کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ بلاول لیاری میں جلسہ کرکے دکھائیں، خاندانی سیاست کرنے والوں کی اپنی فیملی کسی کے قبضے میں ہے، پیپلز پارٹی پر قبضہ گروپ قابض ہے۔