تربیلا ڈیم میں دوسری مرتبہ پانی انتہائی کم سطح پر پہنچ گیا

سندھ ، بلوچستان میں حریف کی فصل کو سخت خطرات لاحق ہونے کا امکان پیدا ہوگیا اگلے دو دن میں انتہائی کم درجے پر پہنچ جائے گا اور ملک کے شمالی حصے سے آب گیرہ کا کوئی امکان بھی نہیں جس سے دریاں میں پانی کی سطح بہتر کر سکے، حکام

منگل مئی 15:28

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) تربیلا ڈیم میں گزشتہ 2 ہفتوں میں دوسری مرتبہ پانی کا درجہ انتہائی کم سطح پر پہنچ گیا جس کے نتیجے میں سندھ اور بلوچستان میں خریف کی فصل کو سخت خطرات لاحق ہو سکتا ہے۔حکام کے مطابق کہ تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ اگلے دو دن میں انتہائی کم درجے پر پہنچ جائے گا اور ملک کے شمالی حصے سے آب گیرہ کا کوئی امکان بھی نہیں جس سے دریاں میں پانی کی سطح بہتر کر سکے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ تربیلا اور منگلا ڈیم میں ایک ماہ قبل پانی کی سطح انتہائی کم ہو گئی تھی جو اپریل کے وسط تک برقرار رہی تھی۔انہوں نے خبردار کہ تربیلا ڈیم میں ڈیڈ لیول سے صرف 4 فٹ پانی اونچا موجود ہے جو دو دن میں ختم ہو جائے گا۔حکام کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے تخمینہ لگایا ہے کہ موسم خریف کے ابتدائی دنوں میں 40 فیصد پانی کی کمی ہوگی، اگر دریاں میں پانی کا بہا نہیں بڑھا تو کمی کا تناسب 44 فیصد تک پہنچے کا امکان ہے ۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ پنجاب نے پانی کی ترسیل کے ذمہ داران کو کہا ہے کہ وہ منگلہ ڈیم میں سے پانی کا نکاس 28 ہزار کیوسک سے کم کرکے 25 ہزار کردے تاکہ دریائے چناب میں پانی کا بہا بہتر ہواور زرعی زمینوں کی ضرورت پوری ہو سکے۔دوسری جانب ارسا نے حکومت پنجاب کی تجویز مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ بیراج ہیڈ تونسہ کو بند کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاہم منگلہ ڈیم سے اخراج میں کمی تاحال ممکن نہیں ہے۔

اس حوالے سے ارسا نے واضح کیا کہ بیراج ہیڈ تونسہ سے 4 ہزار 200 کیوسک پانی کوجہلم چناب زون میں منتقل کیا جارہا ہے۔دوسری جناب سندھ زرعی محکمے نے خبردار کیا ہے کہ تربیلا ڈیم میں آپریٹنگ لیول (1 ہزار 386 فٹ) سے محض 4 فٹ کا پانی بچا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح آپریٹنگ لیول (1 ہزار 103 فٹ) سے 53 فٹ ہے۔محکمہ زراعت نے احتجاج کیا کہ ایسے حالات میں منگلہ ڈیم کے مقابلے میں تربیلا ڈیم سے تاحال اخراج جاری ہے۔۔