پرائیویٹ سکولوں کونکیل ڈالنے کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی متحرک

چھاپہ مارٹیم کایونیورسٹی ٹائون میں نجی سکولزکامعائنہ،ریکارڈچیک کیا،بے قاعدگیاں دورکرنے کی ہدایت

منگل مئی 15:29

پشاور۔یکم مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر سید ظفر علی شاہ کو موصولہ عوامی شکایات کی روشنی میں اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز اور ڈپٹی ڈائریکٹر ( رجسٹریشن اینڈ فیس ریگولیشنز )نے پشاور میں نجی سکولوں کے ریکارڈ کا معائنہ شروع کر دیا ہے، اس سلسلے میں ٹیم نے یونیورسٹی ٹائون پشاور میں پرائیویٹ سکول قدیمس لومئیر کا اچانک دورہ کیا اور وہاں پر پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے قانون2018 پر عمل درآمد ، پشاور ہائی کورٹ کے 8نومبر2017کے فیصلے کے مطابق ادارے کے قواعد اور ایک ہی والدین سے دوسرے اور تیسرے بچے کی آدھی فیس وصول کرنے ، 30دن سے زیادہ چھٹیوں پر چھٹیوں کی ٹیوشن فیس وصول کرنے ، سالانہ فیس تین فیصد سے زیادہ وصول نہ کرنے ، پروموشن فیس وصول کرنے اور چھٹیوںمیں ٹرانسپورٹ فیس وصول کرنے کو چیک کیا۔

(جاری ہے)

ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے تفصیلی معائنے اور امتحانی ریکارڈ چیک کرنے کے بعد وہاں پر ادارے کی جانب سے کسی قسم کی بے قاعدگی نہیں پائی گئی تاہم ایک سے زائد بہن بھائیوں سے فیس وصولی کے سلسلے میں بے قاعدگی پائی گئی جس پر اتھارٹی افسران نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سات دنوں کے اندر بہن بھائیوں سے وصول کی گئی زیادہ فیس کو واپس کرے ، افسران نے خبر دار کیا کہ وہ چیکنگ کی غرض سے دوبارہ آئیں گے۔اس موقع پر سکول انتظامیہ نے اتھارٹی کی ہدایت پر سو فیصد عمل درآمد اور وصول شدہ زائد فیسوں کی والدین کو واپسی کی یقین دہانی کرائی۔

متعلقہ عنوان :