یوم مئی ہمیں جبر و استبداد کیخلاف جدوجہد کی یاد دلاتا ہے،اشرافیہ نے کئی سو ارب کے قرضے معاف کرائے، قرضے معاف کرانے سے امیر اور غریب میں فرق بڑھ گیا، اربوں، کھربوں کھانے والے غربت ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں، بوسیدہ نظام کو بدلنے کیلئے عوام کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا، شہبازشریف

منگل مئی 15:30

لاہور۔یکم مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ شیروانیاں، واسکٹ پہن کر نصیحت کرنے والے اربوں روپے کھا گئے، کرپشن میں ڈوبے ہوئے افراد آج نصیحت اور بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اورنج ٹرین منصوبے کو 22 ماہ تاخیر کا شکار کرایا گیا، لاہور کے عوام نے جس طرح اس کا بدلہ لیا، سلام پیش کرتا ہوں، اربوں، کھربوں کھانے والے غربت ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں، عمران خان کا دھرنا،، کام نہ کرنا ہے اور سندھ میں حکمرانوں کے مرسوں مرسوں کا مطلب ہے کام نہ کرسوں ہے، وہ لاہور میں ایوان اقبال میں یوم مئی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یوم مئی ہمیں جبر و استبداد کیخلاف جدوجہد کی یاد دلاتا ہے،اشرافیہ نے کئی سو ارب کے قرضے لے کر معاف کرائے، قرضے معاف کرانے سے امیر اور غریب میں فرق بڑھ گیا، بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے عوام کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا۔

(جاری ہے)

،انہوں نے کہا کہ نیب کا سورج پنجاب کی دھرتی پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور طاقتور سرکاری اداروں کی عقابی نظریں بھی صرف پنجاب پر مرکوز ہیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ کئی سو ارب کے قرضے لے کر معاف کرائے گئے، کیا اس سے بڑا کوئی اور جرم ہے‘ انہوں نے کہا کہ ‘قرضے معاف کرانے والوں نے بڑی گاڑیاں اور محل رکھے ہوئے ہیں، وزیر اور مشیر بھی بنے، جس ملک میں کئی سو ارب کے قرضے معاف کرالیے گئے ہوں، جہاں بعض بڑے بڑے سیاستدان شہ سرخیوں کے ساتھ بیانات دے رہے ہوں اور سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، پوری دنیا جانتی ہے اپنے ادوار میں سینکڑوں اربوں کے فراڈ کیے، آج شیروانی اور واسکٹ پہن کر نصیحت کرتے ہیں‘ عدالت عظمیٰ بھی ہر چیز کا گہرائی میں جاکر نوٹس لے رہی ہے، طاقتور سرکاری اداروں کی عقابی نظریں صرف پنجاب پر مرکوز ہیں،،وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کھوج لگانے کے لیے نیب اور دوسرے اعلیٰ اداروں کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن دٴْہرا معیار نہیں چل سکتا، ایک طرف کرپشن کو نظر انداز کریں اور دوسری طرف عقابی نظروں سے ہر چیز دیکھیں، آگ اور پانی نہیں مل سکتے، دونوں میں سے ایک نے ختم ہونا ہے، اگر آپ نے کرپشن کے خاتمے کا ٹھیکہ اٹھایا ہے تو اس کو بلا تفریق ہونا چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نہیں کہتا پنجاب میں کرپشن ختم ہوگئی، اگر پچھلے دس سالوں میں قرضوں اور سڑکوں سمیت کسی بھی منصوبے میں میری ذات کے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوئی تو آپ کا ہاتھ اور میرا گریبان، اگر کرپشن ہو تو میری قبر سے لاش کو نکال کر ٹانگ دینا‘۔انہوں نے کہا کہ ’عوام نے ہمیں خدمت کے لیے چنا اور ہم نے اسے پورا کرنے کے لیے فرض ادا کیا، ہم سے کئی غلطیاں ہوئیں، ہم فرشتے نہیں ہیں‘۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ’اورنج لائن منصوبے میں تاخیر پر پی ٹی آئی سے اتوار کو بدلہ لینے پر لاہو روالوں کو سلام پیش کرتا ہوں، آج جو سیاسی مخالفین باتیں کررہے ہیں انہوں نے اپنے صوبوں میں کیا کیا، کیا کے پی کے میں ایسا قرضہ دیا جو ہم نے دیئے، کیا سندھ میں ایک دھیلے کا قرضہ دیا گیا، وہاں تو اربوں کھربوں غائب کردیئے گئے، پھر کہتے ہیں غربت اور بیروزگاری ختم کریں گے انہوں نے کہا کہ پنجاب انڈومنٹ فنڈ میں کسی سیاسی فرد نے آج تک سفارش نہیں کی، کسی مفاد کے بغیر بلا سود قرض دیئے گئے، 20 لاکھ افراد کو بلا سود قرض دیئے گئے۔