اسرائیل کے خلاف ایران کی جوابی کارروائی عراقی انتخابات کے بعد متوقع

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ رواں سال فروری میں شروع ہوا ،امریکی میڈیا کا تبصرہ

منگل مئی 15:50

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) امریکی اخبار نے تجزیہ کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے طبل جنگ بجایاجاچکا ہے تاہم ایران کی جانب سے جوابی کارروائی عراق کے انتخابات کے بعد متوقع ہے،امریکی میڈیا کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ رواں سال فروری میں شروع ہوا جب اسرائیل نے یہ اعلان کیا کہ ایران کے ایک ڈرون جاسوس طیارے نے اسرائیل کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس کے نتیجے میں شام کی سرزمین پر اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلا براہ راست تصادم ہوا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں نو اپریل کو دمشق نے اسرائیلی طیاروں پر الزام لگایا کہ انہوں نے شام کے وسط میں واقع التیفور کے فضائی اڈے کو حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں شامی حکومت کی ہمنوا فورسز کے 14 ارکان ہلاک ہو گئے۔ مارے جانے والوں میں ایرانی بھی شامل تھے۔اتوار اور پیر کی درمیانی شب حماہ اور حلب کے نواحی علاقوں میں بشار حکومت کے فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی میں شامی حکومت کے ہمنوا 26 مسلح افراد مارے گئے جن میں اکثریت ایرانی جنگجوؤں کی تھی۔ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کا غالب گمان ہے کہ یہ میزائل اسرائیل کی جانب سے داغے گئے۔