جماعت اسلامی سندھ کے دفتر پر حملہ کراچی کے امن کو دوبارہ تباہ کرنے کی سازش ہے، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی

بدترین حالات میں بھی سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر حملے نہیں ہوئے تھے، ہم امن پسند شہری اور قاون وآئین پر چلنے پر یقین رکھتے ہیں،امیرجماعت اسلامی سندھ

منگل مئی 16:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے نامعلوم افراد کی جانب سے جماعت اسلامی سندھ کے دفتر پر حملے، نمازیوں ،کارکنان پر تشدد اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو جماعت اسلامی پر حملہ قرار دیتے ہوئے گورنر سندھ، وزیراعلیٰ،ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کیخلاف گلبرگ تھانے میں داخل کردہ ایف آئی آر میں نامزد مجرمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نامعلوم افراد کی جانب سے جماعت اسلامی سندھ کے دفتر پر حملہ ،الخدمت فائونڈیشن سندھ کے واٹر فلٹر پلانٹ میں توڑ پھوڑ، کراچی کے امن کو دوبارہ تباہ کرنے کی سازش ہے، کراچی میں بدترین حالات میں بھی سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر حملے نہیں ہوئے تھے، ہم امن پسند شہری اور قاون وآئین پر چلنے پر یقین رکھتے ہیں، جماعت سلامی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے، ہم ہر پارٹی اور ان کے دفاتر کا احترام کرتے ہیں،قباء کمپلیکس میں جماعت اسلامی کے دفاتر، خواتین کا دفتر،الخدمت فائونڈیشن سندھ کے دفاتر اور مسجد قباء موجود ہے جس کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں، جس میں مردوخواتین کی مسائل کے حل کیلئے ہر ووقت آمدرفت جاری رہتی ہے۔

(جاری ہے)

مسلح افراد نے مسجد میں موجود نمازیوں اور مسافروں پر بھی تشدد کیا ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک پرامن جماعت ہے، ماضی میں بھی ہم نے کراچی میں امن کیلئے ہر قسم کی قربانی دی اور آئندہ بھی دینگے۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی سندھ حافظ نصراللہ عزیز،محمد عظیم بلوچ ، سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا اور جماعت اسلامی گلبرگ زون کے امیر کامران سراج بھی موجود تھے۔