سال2017-18کے دوران صوبہ میں کپاس کی فی ایکڑ اوسط پیداوار20.48من ریکارڈ کی گئی

منگل مئی 16:10

راولپنڈی یکم مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) اکنامک سروے رپورٹ 2017-18کے مطابق رواں برس زرعی ترقی کا گراف اپنے عروج پر رہا،،پنجاب میں زرعی شعبہ کی گزشتہ 13سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ترقی دیکھنے میں آئی۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کی جانب سے اے پی پی کو فراہم کردہ دستاویز کے مطابق رواں برس زرعی شعبہ کی شرح نمو 3.81فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال زرعی شرح نمو 2.09فیصد رہی ۔

ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 2015-16میں زرعی گروتھ ریٹ 0.15فیصد ہوگیا تھا تب موجودہ حکومت نے زرعی ابتری کی صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے 212ارب روپے کی خطیر رقم پر مشتمل کسان پیکج کا اعلان کیا جس نے ڈوبتی ہوئی زراعت کیلئے ایک مسیحا کا کردار ادا کیا اور ان 2سالوں میں زرعی شعبہ میںبے مثال ترقی دیکھنے میں آئی۔

(جاری ہے)

ترجمان نے قومی خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس سال فصلات کے شعبے میں بھی اچھی کارکردگی برقرار رہی اور اس میں 3.83فیصد گروتھ ریٹ ریکارڈ ہوا جبکہ اس کے برعکس گزشتہ برس گروتھ ریٹ0.91 فیصد رہا تھا ۔

ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ کسان پیکج کے تحت صوبہ میں 1لاکھ10ہزار رجسٹرڈ کاشتکاروں میں جدید سمارٹ فونز تقسیم کئے گئے جوکہ خصوصی ایپلیکیشنز کے حامل ہیں اور ان کے زریعے کاشتکاروں تک توسیعی سروسز پہنچائی جارہی ہیں ۔ترجمان نے مزید کہا کہ سال2017-18کے دوران صوبہ میں کپاس کی فی ایکڑ اوسط پیداوار20.48من ریکارڈ کی گئی جبکہ سال2016-17میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار 20من رہی ۔

سال 2017-18میںکل 50لاکھ73ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کی گئی جوکہ سال 2016-17میں کل 44لاکھ86ہزار ایکڑ کاشتہ رقبہ کے مقابلہ میں 13.10فیصد زیادہ تھی۔سال2016-17میں صوبہ میں کل69لاکھ78ہزار روئی کی گانٹھیں پیدا ہوئیں جبکہ سال 2017-18 کے دوران کراپ رپورٹنگ کے فائنل تخمینہ کے مطابق پنجاب میں 80لاکھ 77ہزار گانٹھیں روئی پیدا ہوئی یعنی پچھلے سال کی نسبت15.70فیصد زائدروئی کی گانٹھیںحاصل ہوئیں ۔ترجمان نے مزید کہا کہ اگر فی ایکڑ پیداوار کی بات کی جائے تو سال2016-17 کے مقابلہ میں 2017-18 کے دوران2.40 فیصد زیادہ پیداوارریکارڈ کی گئی۔

متعلقہ عنوان :