واپڈا ہائیڈرو ورکر یونین، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن، پیرامیڈیکل اسٹاف اور بلوچستان فشرمین ورکر یونین کی زیر اہتمام عالمی یوم مزدور ڈے کی مناسبت سے سیمینار کا انعقاد کیاگیا

منگل مئی 16:36

پسنی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) واپڈا ہائیڈرو ورکر یونین، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن، پیرامیڈیکل اسٹاف اور بلوچستان فشرمین ورکر یونین کی زیر اہتمام عالمی یوم مزدور ڈے کی مناسبت سے پسنی پبلک ویلفیئر کلب ہال میں سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کیا۔ سیمنار کے شرکا نے مزدوروں کی جدوجہد کو سراہا۔

سمینار سے اسسٹنٹ کمشنر پسنی ذوالفقار کرار، چیرمین میونسپل کمیٹی پسنی عبدالحکیم بلوچ، وائس چیرمین کے بی سعید، واپڈا ہائیڈرو یونین کے محس بھٹو، فشریز ھاربر ایمپلائز کے ناصر اور دیگر نے خطاب کیا۔ جبکی اسٹیج سکریٹری کے فرائض داد رحیم نے سر انجام دئیے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی پسنی کے چیرمین عبدالحکیم نے کہا کہ آج کا دن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ قربانی اور جدوجہد کے بغیر حقوق نہیں دئیے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کل کے مزدور سے آج کی مزدور بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام میں خرابی کی وجہ سے ہر ایک پریشان ہے۔ جب تک نظام درست نہیں ہوگا مزدوروں کی پریشانیاں ختم نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کے معاشی قتل آج سے نہیں کئی عرصے سے ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے غاضب قوتیں ماہی گیروں کی حق تلفی کررہے ہیں۔ اور اگر ہم متحد نہ ہوئے تو ہمارا کوئی مسائل حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلدیہ کے ڈیلی ویجز ملازمین کو کنفرم کرنے کے لئے میں نے ہر فورم پر آواز اٹھایا ہے۔ یہ چونکہ پورے بلوچستان کا مسائل ہے۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ذوالفقار نے کہا کہ کہ جن کی ذمہ داری شہر کی صفائی کرنا ہے انکی تنخواہ سات ہزار ہے،اور پورے علاقے کی صفائی ان خاکروبوں کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مزدوروں کو اہمیت دینا چاہئے کیونکہ ملک کی معاشی ترقی میں مزدوروں کا کلیدی رول ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور شہر کی صحت و صفائی کرنے والے بلدیہ ملازمین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ مزدور معاشرے کے اہم پلر ہیں انکی بہتری کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وائس چیرمین میونسپل کمیٹی کے بی سعید نے کہا کہ 1886 میں مزدوروں کی احتجاج کی وجہ سے آج مزدوروں کی اوقات کار متعین کیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دن ایک مزدور نے اپنے مزدور بھائی کی خون آلود شرٹ کو لہرایا جو کہ آج مزدوروں کی نشانی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی جدوجہد سے 1890 کو یہ قانون منظور ہوگیا کہ مزدور سے روزانہ 8 گھنٹے کام لیا جائے ،اور اس سے زیادہ ٹائم کرنے کی مد میں الگ معاوضہ دیا جائے۔ یہ شگاگو کے مزدوروں کی قربانیوں اور جدوجہدکی وجہ سے ممکن ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے مزدوروں کی حقوق غضب کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر پر قابو پانا ہوگا۔سمینار سے محسن بھٹو اور دیگر نے کہا کہ آج کے دن مزدوروں کی قربانی کی وجہ سے سفید جھنڈے سرخ رنگ میں بدل چکی ہے۔ جو کہ مزدورں کی جدوجہد کی نشانی ہے۔انہوں نے کہا کہ سامراجی اور استحصالی قوتیں مزدوروں کی ترقی کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پسنی کے سی فوڈ کمپنیاں مقامی ملازمین کا استحصال کررہے ہیں۔ مقامی ملازمین کو 8سی10 ہزار ،جبکہ باہر کے ملازمین کو 15 سے 20 ہزار کے ساتھ تین وقت کی کھانا اور دیگر مراعات بھی دیا جارہاہے۔ بلدیہ کے محنتی ملازمین کو ڈیلی ویجز کے نام پر 7 ہزار دے کر لیبر قانون کی دھیجیاں اڑا دئیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد کا مقصد مزدوروں کو انکی جائز حقوق دلانا ہے۔