پاکستان میں سیلابوں اور خشک سالی کے بارے میں یونیسکو کی جانب سے فراہم کردہ فنی و پیشہ وارانہ معاونت خوش آئند ہے ،جاپانی سفیر تاکاشی کو آئی

منگل مئی 16:52

اسلام آباد ۔ یکم مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) پاکستان میں جاپان کے سفیر تاکاشی کو آئی نے پاکستان میں سیلابوںاور خشک سالی کے بارے میں یونیسکو کی جانب سے فراہم کردہ فنی و پیشہ وارانہ معاونت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پانی کے بحران سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 80فیصد ہے اور جاپان آبی مسائل سے متاثر ہونے والا دنیا کا بڑا ملک ہے۔

منگل کو یہاں مقامی ہوٹل میں ’’سیلابوں اور خشک سالی سے نمٹنے کے لئے کیمونٹی کی سطح پرمشترکہ کوششوں‘‘ کے عنوان سے ورکشاپ کے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم و سائنس اور ثقافت (یونیسکو) پانی کی قلت اور زمین کی زرخیزی کے مسائل کے خاتمہ کے لئے عوام کی شمولیت اور ان کی تربیت کی حوصلہ افزائی پر یقین رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

یونیسکو جاپان کے ادارہ جائیکا کی مالی معاونت سے مقامی تحقیقی ادارے (سول اینڈ واٹر کنزرویشن انسٹیٹیوٹ) کی کارکردگی کو مزید بہتر اور مستحکم بنانے کے لئے تعاون جاری رکھے گا تا کہ پاکستان میں سیلابوں اور خشک سالی کی وجہ سے عوام کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ نے سیلابوں اور خشک سالی سے تحفظ کے لئے اپنی استعداد کار کو بہتر بنایا ہے جس سے نقصانات کی شرح کو کم کرنے میں کافی حد تک مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی جاپان کے تجربات سے استفادہ کر کے سیلابوں اور خشک سالی کے نقصان کو کم کر سکتا ہے اور اس حوالے سے جاپان کی حکومت ہر طرح کی فنی و پیشہ وارانہ اور مالی معاونت کے لئے تیار ہے۔ اس موقع پر تقریب سے یونیسکو کے ریجنل سائنس فار ایشیاء کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد خان محکمہ زراعت پنجاب کے ڈیجی ڈاکٹر عابد محمود جائیکا کے نمائندے ہاشومیرٹوجو ہمیشہ پی اے آر سی کے چیئرمین اور متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی خطاب کیا، جبکہ کانفرنس میں این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، فیڈرل کمیشن انڈونیشیا کے ادارہ برائے موسمیاتی تبدیلیوں اور یونیسکو حکام کے علاوہ سیلابوں اور خشک سالی سے تحفظ کے لئے کام کرنے والے مختلف عالمی و مقامی اداروں کے وفود نے بھی شرکت کی۔