واشنگٹن میںوائٹ ہائوس کے سامنے کشمیریوں کا احتجاجی مظاہرہ، معصوم آصفہ کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ

منگل مئی 18:18

واشنگٹن ۔ یکم مئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) ورلڈ کشمیر ایوئر نیس فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہاہے کہ کٹھوعہ میں 8سالہ معصوم بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے رہنمائوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ڈاکٹر فائی نے واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کے سامنے ایک بڑی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصفہ کو اغوا کے بعد نشہ آور دوائیاں دی گئیں اور اس کے بعد اجتماعی آبروریزی کے بعد قتل کردیا گیا کیونکہ وہ سب سے بڑے نام نہاد جمہوری ملک میں ایک مسلمان لڑکی تھی ۔

انہو ں نے کہا آصفہ کے قاتلوںنے بے حرمتی کو خوف و دہشت پھیلانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تاکہ ان کے خاند ان کو علاقے سے نقل مکانی پر مجبور کیا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس کا شکریہ ادا کیا جنہوںنے آٹھ سالہ بچی کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زوردیا تھا۔ ڈاکٹر فائی نے کسی بین الاقوای ادارے کے ذریعے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

کشمیر ی امریکن کونسل کے صدر پروفیسر امتیاز خان نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کٹھوعہ کا کیس مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والا واحد کیس نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ1991ء میںکنن پوشپورہ میں 7 سے 70 سال کی عمر کی 100سے زائد خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی گئی لیکن ابھی تک اس کی کوئی تحقیقات نہیں کی گئی ۔ انہوںنے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

سردار سرور خان نے کہاکہ کشمیریوں کو حق خودارادیت نہ دینے کی وجہ سے دو جوہری ممالک ایٹمی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ تقریب سے ڈاکٹر ایم اے دھر، سردار آفتاب روشن خان، شمشاد بیگم، حامد ملک، خالد فہیم، سردار زاہد خان، ڈاکٹر اے آر میر، سردار زبیر خان، ہشام خان اور سردار ظریف خان نے بھی خطاب کیا۔ انہوںنے حریت قیادت کی مسلسل نظربندی کی شدید مذمت کی۔ KMS-07/S