پی ایس او افسران نے کلبوںکی ممبر شپ پر کروڑوں اڑا دیئے

ریٹائرمنٹ لینے والے افسران بھی قومی دولت پر کلبوں میں عیاشیاں کررہے ہیں ، سپریم کورٹ عطاء الحق قاسمی سکینڈل میں گائیڈ لائن دے گی

منگل مئی 20:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) پی ایس او افسران نے کلبوں کی ممبر شپ پر قومی خزانہ سے کروڑوں روپے اڑا دیئے ہیں قومی دولت پر پی ایس او کے افسران عیاشیاں کرنے میں مشغول ہیں ۔ ایم ڈی پی ایس او نے بھی اپنی ممبر شپ کے حصول پر پچیس لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات کئے ہیں قانون کے مطابق گریڈ ٹو کے اوپر افسران دوران ملازمت کسی ممبر شپ کی کلب کی حاصل کرسکتے ہیں جب کوئی افسر ریٹائر ہوجائے گا تو اس کی کلب ممبر شپ ختم ہوجائے گی لیکن ایک سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ پی ایس او کے سابق ایم ڈیز اور دیگر اعلیٰ افسران نے ابھی تک کلبوں کی ممبر شپ سے دستبرداری نہیں کی بلکہ قومی دولت پر عیاشیاں کرنے میں مصروف عمل ہیں جن کیخلاف وزارت پٹرولیم نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے حالانکہ پارلیمانی کمیٹی نے وزارت کو واضح ہدایات دی تھی کہ ریٹائرمنٹ لینے والے افسران سے کلبوں کی ممبر شپ واپس لی جائے ۔

(جاری ہے)

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی ایس او کی موجودہ انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا سپریم کورٹ عنقریب افسران کی طرف سے قومی دولت پر کلبوں کی ممبر شپ سکینڈل بارے فیصلہ صادر کرنے والی ہے جس کے دور رس نتائج تمام سرکاری اداروں پر مرتب ہوں گے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ پی ٹی وی کے سابق گارڈ فادر عطاء الحق قاسمی سکینڈل کی روشنی میں سنائے گی پی ایس او کا ترجمان اس حوالے سے موقف دینے پر راضی نہیں ہوا ہے ۔

متعلقہ عنوان :