پاک بھارت ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے پر اتفاق

بھارت نے پاکستان کی طرف مذاکرات کے ذریعے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے نمرانا ڈائیلاگ کاآغا زکردیا

منگل مئی 20:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) پاکستان اور بھارت نے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔۔بھارتی میڈیا پر شائع ہونے والے بیان کے مطابق بھارت نے پاکستان کی طرف مذاکرات کے ذریعے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے نمرانا ڈائیلاگ کاآغا زکردیا ہے، جس کے مطابق بھارتی وفد نے 28-30اپریل تک پاکستان کا دورہ کیا۔

غیر سرکاری بھارتی وفد کی قیادت سابق بھارتی سیکرٹری ایم ای اے ویوک کاٹجو نے کی، وفد کے اراکین میں جے ایس راجپوت اور دیگراہم غیر سرکاری شخصیات نے شرکت کی، جبکہ پاکستان میں اس وفد کی میزبانی سابق سیکرٹری خارجہ انعام الحق نے کی ، جبکہ دیگر افسران میں عشرت حسین سمیت ، وزارت خارجہ کے اہم ریٹائرڈ افسران اور ریٹائرڈ فوجی افسران نے کی ۔

(جاری ہے)

بھارتی وفد نے پاکستانی وفد کے ساتھ تین روزہ مذاکرات کیے اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو معمور پر لانے کیلئے راہ ہموار کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیا۔۔بھارتی اخبار نے لکھا ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان کی طرف سے مثبت جواب کی توقع کررہی ہے۔اس سلسلے میں پاکستان میں تعینات سابق بھارتی ہائی کمشنرٹی سی، اے راگوان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات کی بہتر ی کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کی طرف سے مثبت جواب ملے ۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے غیر سرکاری مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا بہت ضرورری ہے۔ اس سلسلے میں اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوںممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کیلئے عوامی رائے ہموارکرنا نہایت ضروری ہے۔واضع رہے کہ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران باہمی بات چیت کو مثبت قراردیا تھا جسے بھارتی اخبارات نے جلی حروف میںشائع کیا تھا۔

دونوں ممالک کے مابین تعلقات گزشتہ چند ہفتو ں سے کشیدگی اختیار کرگئے تھے جب پاکستانی سفارتکاروں کو نیودہلی میں ہراساں کرنے کے واقعات منظر عام پر آئے جس کی وجہ سے پاکستان نے بھارت میں تعینات ہائی کمشنر سہیل خان کو اسلام آباد طلب کیا ۔ یہی وجہ تھی کہ حال ہی میں شنگھائی تعاون کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے سائیڈ لائن ملاقات میں ایکدوسرے سے ملنے سے گریز کیا تھا۔ واضع رہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین نمرانا ڈائیلاگ کا آغا زسال 1991 میں ہوا تھا جب دونوں ممالک نے نمرانا قلعہ میں مذاکرا ت کیے تھے جس کی مناسبت سے اسے نمرانا ڈائیلاگ کا نام دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔