عمران نیازی کا ماٹو’’ دھرنا دھرنا کام نہ کرنا‘‘ ، زرداری کا مقصد ’’مرسوں مرسوں کام نہ کرسوں‘‘ ہے‘شہباز شریف

نیب کا سورج پنجاب کی دھرتی پر پوری آب و تاب کیساتھ چمک رہاہے ،عدالت عظمی بھی بڑی گہرائی سے ہر چیز کا نوٹس لے رہی ہے ادارے کرپشن کیخلاف متحرک ہیں ہم خیر مقدم کرتے ہیں، ایک طرف کرپشن کو نظر انداز کیا جائے تو دوسری جانب عقابی نظریں ،یہ دوہرا معیار نہیں چل سکتا وزیراعلی خود روزگار سکیم کے تحت 46ارب کے 20لاکھ قرضے تقسیم کئے جا چکے ،ایک کروڑ 20لاکھ افراد مستفید ہوئے،قرضوں کی واپسی کی شرح 99.9فیصد‘اس پروگرام کی بدولت خدانخواستہ ہنر مند اور تعلیم یافتہ بھکاری بننے کی بجائے قوم کے معمار بن چکے ہیں اور میں ان عظیم معماروں کو سلام پیش کرتا ہوں اربوں روپ کے قرضے معاف کرانے والوں نے قوم کیساتھ جرم کیا ،اس جرم کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیا ن خلیج بڑھی ہے دوبارہ خدمت کا موقع ملا تو پاکستان کو صحیح معنوں میں قائدؒ و اقبالؒ کا ملک بنا دیں گے ،جہاں غربت اور بیروزگار ی نہیں ہوگی وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کا ’’وزیراعلی خود روزگار سکیم ‘‘ کے تحت بلاسود قرضوں کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

منگل مئی 19:50

عمران نیازی کا ماٹو’’ دھرنا دھرنا کام نہ کرنا‘‘ ، زرداری کا مقصد ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ’’ وزیراعلی خود روزگار سکیم ‘‘کے تحت 46ارب روپے کے 20لاکھ قرضے تقسیم کئے گئے ہیں اور اس سکیم سے بلواسطہ یا بلاواسطہ ایک کروڑ 20لاکھ افراد نے فائدہ اٹھایاہے،ان قرضوں کی واپسی کی شرح 99.9فیصد ہے ،ایک طرف قوم کے یہ عظیم بیٹے اور بیٹیاں ہیں جنہوںنے بلاسود قرضوں کی ایک ایک پائی واپس کی ہے جبکہ دوسری جانب وہ اشرافیہ ہے جس نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں جو اس غریب قوم کے سا تھ بڑا ظلم اور زیادتی ہے،،غریب قوم کی محنت کی کمائی کے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں نے اس غریب قوم کے سا تھ جرم کیاہے اوران کے اس جرم کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان تفاوت بڑھی ہے اورملک میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہواہے ،ہم نے عوام کی خدمت کے لئے اپنا خون پسینہ بہایا ہے جبکہ ہمارے سیاسی مخالفین نے اپنے صوبوں میں عوام کی جو خدمت کی ہے وہ سب کے سامنے ہے،،الیکشن کی آمد آمد ہے،سیاسی مخالفین سیاسی شعبدہ بازی دکھا رہے ہیں، عمران نیازی کا ماٹو’’دھرنا دھرنا کام نہ کرنا‘‘ جبکہ زرداری کا مقصد’’ مرسوں مرسوں کام نہ کرسوں‘‘ ،،غریب قوم کی محنت کی کمائی لوٹنے والے شیروانیاں اور واسکوٹ پہن کر کرپشن کے خلاف لیکچر دے رہے ہیں ،قوم ان کی کرپشن کے سکینڈلز آج بھی بھلا نہیں پائی-میں کئی بار پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر میرے گزشتہ 10سالوں کے دورحکومت میں میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو آپ کا ہاتھ او رمیرا گریبان ہوگا او رمیں یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر میرے مرنے کے بعدبھی میرے خلاف کرپشن ثابت ہو جائے تو مجھے قبر سے نکال کر لٹکا دینا،ہم نے ترقیاتی منصوبوں میں غریب قوم کے اربوں روپے بچائے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں میں بچت کی مثال ملک کی 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

(جاری ہے)

وزیراعلی محمدشہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار یہاں ایوان اقبال میں ’’وزیراعلی خود روزگار سکیم ‘‘ کے تحت بلاسود قرضوں کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا-وزیراعلی نے کہاکہ آج کی محفل اس لحاظ سے بہت باوقار اور با کمال ہے کہ آج شب برات ہی-آج یوم مئی بھی ہی-پوری دنیا میں یہ دن محنت کشوں کی عظمت او ران کی محنت کے احترام میں منایا جا تاہی--پاکستان میں بھی محنت کشوں کی محنت او ران کی عظمت کے احترام میں تقاریب منعقد کی گئی ہیں-آج کی یہ محفل بھی محنت ، امانت او ردیانت کے حوالے سے سجائی گئی ہی- انہوںنے کہاکہ 2010ء میں جب میں یورپ کے سفر سے واپس آیا تو حضرت داتا گنج بخش کی مسجد میں ایک تقریب منعقد کی گئی اور وہاں سے بلاسود قرضوں کی فراہمی کے عظیم ا لشان پروگرام کا آغاز کیا گیا-یہ پروگرام ان لوگوں کے لئے شروع کیا گیا جن کے پاس تعلیم اور ہنرتھا لیکن وسائل نہیں تھی-اس منصوبے کو شروع کرنے کا مقصد تعلیم یافتہ او رہنر مند افراد کو اس قابل بنانا تھا کہ وہ معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے اپنے اہل خانہ کا بوجھ بانٹ سکیں-اس پروگرام کے روح رواں ڈاکٹر امجد ثاقب جن کو میں وقت کا ولی کہتا ہوں ان کی او ران کی پوری ٹیم کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے کہ اس پروگرام کے تحت 46ارب روپے کے 20لاکھ قرضے تقسیم کئے جا چکے ہیں-یہ پروگرام انتہائی شفاف ہے اور آج تک اس پروگرام میں ایک دھیلے کی خرد برد کا کیس سامنے نہیں آیا-’’وزیراعلی خود روزگارسکیم‘‘محنت،امانت اور دیانت کی ایسی عظیم داستان ہے جو بغیر کسی غرض ، منفعت اور نمود نمائش کے آگے بڑھ رہی ہی-اسی پروگرام کی بدولت خدانخواستہ ہنرمند او رتعلیم یافتہ لوگ بھکاری بننے کی بجائے قوم کے معمار بن چکے ہیں اور میں ان عظیم معماروں کو سلام پیش کرتا ہوں- انہوںنے کہاکہ محلات ، فیکٹریاںاور لمبی لمبی گاڑیاں رکھنے والی اشرافیہ نے اربوں روپے کے قرضے ہڑپ کئے جبکہ ’’وزیراعلی خود روزگا رسکیم‘‘ کے تحت قرضے حاصل کرنے والے قوم کے عظیم افراد نے ایک ایک پائی واپس کی-اشرافیہ کی چوکھٹ پر تودنیا کی ہر نعمت سلام کرے جبکہ غریب بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہو اسے کسی صورت قائدؒ و اقبالؒ کا پاکستان نہیں کہا جا سکتا-لاکھوں لوگ خون کے دریا عبور کر کے ،لازوال قربانیاں دیکر اور اپنا گھر بار چھوڑ کر اس امید کے سا تھ یہاں آئے تھے کہ یہاں محنت ، امانت او ردیانت سکہ رائج الوقت ہوگا -محنت کی عزت ہوگی،،کرپشن ، سفارش ، دھونس ، دھاندلی نہیں ہوگی-لیکن یہاں سفارش کا کلچرعروج پر رہا-محنت ،امانت اور دیانت گھنائی جاتی رہی-اب اس کلچر کو بدلنے کا وقت آگیا ہی-قوم کو اس بوسیدہ نظام کوبدلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا-وزیراعلی نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالی نے جب بھی عوام کی خدمت کا موقع دیا بے لوث خدمت کی ہی-نیب کا سورج پنجاب کی دھرتی پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہاہی-عدالت عظمی بھی بڑی گہرائی سے ہر چیز کا نوٹس لے رہی ہی-ریاست کے اداروں کی عقابی نظریں پنجاب پر ہیں-میں کہتا ہوں کہ اگر میری ذات پر پچھلے 10سالوں میں ترقیاتی منصوبوں میں ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو آپ کا ہاتھ اور میرا گریبان ہوگا--غریب قوم کے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والے اور سر سے لیکر پائوں تک کرپشن میں ڈوبے سیاستدان دیانتداری او رکرپشن کے خلاف بیان دے رہے ہیںاو رقوم کو نصیحتیں کر رہے ہیں-ریاست کے ادارے کرپشن کے خلاف متحرک ہیں تو ہم اس کاخیر مقدم کرتے ہیںتاہم انہیں قوم کی لوٹی ہوئی دولت پر بھی توجہ دینا ہوگی-ایک طرف کرپشن کو نذر انداز کیا جائے اور دوسری طرف عقابی نظریں رکھی جائیں یہ دوہرا معیار نہیں چل سکتا-آگ او رپانی مل نہیں سکتے اگر آپ نے کرپشن کے خاتمے کی ذمہ داری اٹھائی ہے تو اچھی بات ہے یہ کام بلاامتیاز ہونا چاہیی-انہوںنے کہاکہ ہم نے ترقیاتی منصوبوں میں محنت او رکاوش سے کئی سو ارب روپے بچائے ہیں-انہوں نے کہاکہ اورنج لائن میٹروٹرین چین کا منصوبہ ہے اور اس منصوبے کے بارے میں جی ٹو جی معاہدہ ہے جس کی روسے ٹینڈرنگ کا عمل نہیں ہوتا- میں نے چین کی حکومت کو خط لکھا کہ ہم نے اس منصوبے میں ٹینڈرنگ کرانی ہی-ٹینڈرنگ کے عمل میں سب سے کمی بولی دینے والی کمپنی نے اس منصوبے کے لئے 210ارب روپے کی بولی دی-ہم نے بولی کے بعد کمپنی سے بات چیت کی اور اس منصوبے کی لاگت میں مزید کمی کرائی گئی-210ارب روپے سے کم کر کے 165ارب روپے پر لے آئے اور اس طرح 45ارب روپے کی بچت کی اس کے بعد منصوبے کا سول ورکس بھی پاکستان کی کمپنیوں کو دیا گیا او ران سے بات چیت کر کے مزید 9ارب روپے بچائے گئی-اس طرح مجموعی طورپر اس منصوبے میں غریب قوم کے 65ارب روپے کی بچت کی گئی-اس سے بڑھ کر غریب قوم کی او رکیا خدمت ہو سکتی ہی--پی ٹی آئی نے اس منصوبے میں 22ماہ کی تاخیر کرائی جسکا بدلہ لاہور کے عوام نے 2دن قبل ان سے خوب لیا-وزیراعلی نے کہاکہ ہماری سیاسی مخالفین کو اپنے صوبوں میں عوام کی خدمت کاموقع ملا لیکن انہوںنے کچھ نہ کیا- کے پی کے میں کسی کو ایک دھیلے کا بھی بلاسود قرضہ نہیں دیا گیا- دوسری جانب سندھ میں بلاسود قرضے دینے کی بجائے ار بوںروپے کھائے گئی-پھر بھی وہ ملک سے غربت ، بے روزگاری اور کرپشن کے خاتمے کے دعوے کر رہے ہیں--عمران نیازی لاہور کی میٹروبس کو جنگلا بس کہتے تھے اور وہ دعوے کرتے تھے کہ اگر انہیں گرانٹ یا فنڈز ملیں تو وہ میٹروبس کی بجائے تعلیمی ادارے اور ہسپتال بنائیں گی-ا نہوںنے اپنے صوبے میں نہ تو کوئی تعلیمی ادارہ بنایا اور نہ ہی ہسپتال-میٹروبس کے نام پر پشاور شہر کو اکھاڑ کر رکھ دیا-میں نے اپنے دورہ پشاور کے دوران کہاہے کہ اگر ہمیں کے پی کے کے عوام نے موقع دیا تو اس منصوبے کو پانچ ماہ میں مکمل کریں گی-انہوںنے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے سی پیک کے علاوہ اپنے وسائل سے 5ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگائے ہیں-بھکی پاور پلانٹ سے 1150میگا واٹ ،حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ سے 1250میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے جبکہ بلوکی میں 1200میگا واٹ کے پاورپلانٹ سے بھی جلد بجلی حاصل ہونا شروع ہو جائے گی --پنجاب حکومت حویلی بہادر شاہ میں 1200میگاواٹ کا ایک اور منصوبہ لگا رہی ہے جو روا ںسال کے آخر میں مکمل ہو جائے گا-دوسری جانب نیلم جہلم پاور پلانٹ 20سال سے رینگ رہاتھا-موجودہ حکومت نے اسے مکمل کیاہی-985میگا واٹ کے اس پاورپلانٹ پر 500ارب روپے خرچ ہوئے ہیں جبکہ ہم نے توانائی کے منصوبے اس سے آدھی قیمت پر مکمل کئے ہیں-انہوںنے کہاکہ زرداری صاحب کے دور میں بھی گدو پاور پلانٹ لگایا گیا او رہم نے 8سال کے بعد آدھی قیمت پر ایسا پلانٹ لگایا ہی-انہوںنے کہا کہ توانائی کے منصوبوں میں 150ارب روپے کی بچت کی گئی ہی-ہم نے خواب کو حقیقت میں بدلا ہی-وسائل کی ایک ایک پائی قوم کے قدموں میں نچھاور کی ہی-اگر ہمیں دوبارہ خدمت کا موقع ملاتو اگلے پانچ سالوں میں پاکستان کو صحیح معنوں میں قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنا دیں گے جہاں غربت اور بے روزگاری نہیں ہوگی-اخوت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب نے ’’وزیراعلی خود روزگار سکیم کے اغراض ومقاصد، افادیت اور اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی -وزیراعلی محمد شہبازشریف نے ’’وزیراعلی خود روز گار سکیم‘‘ کے تحت قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں میں بلاسود قرضوں کے چیک تقسیم کئی-سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان، صوبائی وزراء شیخ علائوالدین ، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، بیگم ذکیہ شاہنواز ، جہانگیر خانزادہ ، اراکین اسمبلی ،چیف سیکرٹری، دانشوروں ، کالم نگاروں اور لوگوں کی بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی-جامعہ اشرفیہ کے مہتہم حافظ فضل الرحیم نے ملک کی ترقی وسلامتی کیلئے خصوصی دعا کروائی-