کوئٹہ، سی ٹی ڈی و دیگر سیکورٹی اداروں کی کاروائی،بدنام زمانہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم کمانڈر گرفتار

داعش کا بلوچستان میں کوئی منظم وجود نہیں نہ ہی یہاں کوئی غیر ملکی دہشتگرد ہیں ،مختلف تنظیمیں ایک دوسرے کیساتھ ملکر کاروائیاں کررہی ہیں،ڈپٹی انسپکٹر جنرل محکمہ انسداد دہشتگردی اعتزاز گورایہ

منگل مئی 20:38

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) ڈپٹی انسپکٹر جنرل محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی ) اعتزاز گورایہ نے کہاہے کہ 30اپریل کو سی ٹی ڈی ،،ایف سی اور دیگر سیکورٹی اداروں نے خفیہ اطلاع پر کوئٹہ کے علاقے ولیج ایڈ میں کاروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم کمانڈر محمد رحیم عرف بابل ،عرف کیپٹن ولد محمد بخش محمد شہی کو گرفتار کرلیا ملزم نے ہزارہ ٹائون میں ٹینکر بم دھماکے ،آئی جی پولیس کی رہائش گاہ بی ایم سی اور سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی خودکش دھماکوں سمیت ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کی 9وارداتوںکا اعتراف کرلیا ہے ،یہ بات انہوں نے منگل کو محکمہ انسداد دہشتگردی کے دفتر میں سیکٹر کمانڈر ایف سی کوئٹہ بریگیڈیئر تصور ستار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ،اعترزاز گورایہ نے بتایا کہ محمد رحیم کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا اہم کمانڈر ہے ملزم سے ایک ہینڈ گرنیڈ اور ایک پستول بھی برآمد کی گئی ،ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے 20011کے آخر اور 2012کے شروع میں لشکری جھنگوی کے کمانڈر ولی اللہ ولد عبدالرحمن سکنہ مستونگ سے ملاقات کی اور لشکر جھنگوی میں شمولیت اختیار کی ملزم نے 28نومبر 2012کو سرکلر روڈ پر حسین علی ہزارہ کو فائرنگ کرکے قتل کیا جس کا مقدمہ نمبر 277-12سٹی تھانہ میں درج ہے ،ملزم نے 2012میں سریاب روڈ برمہ ہوٹل کے قریب صندوق بنانے والی دکان پر فائرنگ کرکے 2افراد کو ہلاک کیا ،16نومبر2012کو قندھاری بازار اور جمال الدین افغانی روڈ کراس پر ایک ٹیکسی پر فائرنگ کی جس میں 2افراد رمضان علی ہزارہ اور قرار حسین جاں بحق ہوئے اور علی گل ہزارہ ،مرزا حسین زخمی ہوئے ،مورخہ 17فروری 2013ء کو واٹر ٹینکر میں بارودی مواد نصب کرکے ہزارہ ٹائون کوئٹہ کی سبزی مارکیٹ میں دھماکہ کیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے ملزم نے 12مئی 2013ء کو زرغون روڈ پر آئی جی پولیس کی رہائش گاہ پر بارود سے بھرے ٹرک کے ذریعے دھماکہ کیا ،15جون 2013ء کو سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی اور اسکے بعد بی ایم سی ہسپتال میں دو خودکش حملے کروائے ،مورخہ 23اکتوبر 2014ء کو ہزار گنجی میں ہزارہ سبزی والے جو مزدا بس میں سوار تھے کو فائرنگ کرکے قتل کیا ،ملزم نے 9دسمبر 2014ء کو آئی جی ایف سی کے پی آر او خان واسع پر بھی فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہوا ،ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ نے مزید کہاکہ ملزم کی گرفتاری کے بعد کئی پرانے مقدمات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ،یہ ملزم سی ٹی ڈی کی ریڈ بک میں شامل تھا اور اس پر 20لاکھ روپے انعام مقرر تھا ،ملزم 2015سے مفرور تھا جس کے دوران وہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوںمیں روپوش رہا اسکے گروپ کے دیگر ساتھی ولی اللہ ،شفیق ،سراج ودیگر پہلے ہی مارجاچکے ہیں ،انہوں نے بتایاکہ افغانستان میں دہشتگردوں کے منظم کیمپ قائم ہے یہ کیمپ سپین بولدک ،قندھار ،پکتیا ،پکتیکا سمیت دیگر علاقوں میں واقع ہیں ،جہاں دہشتگرد ٹریننگ لینے کے بعد بلوچستان میں آکر کاروائیاں کرتے ہیں یہ کیمپ دائود محسود ،بلال محسود ،مفتی سمیت دیگر لوگ چلارہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اہم شواہد ملے ہیں جو فل الحال نہیں بتاسکتے ہیں ،،مسیحی اور ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ میں ایک ہی گروہ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے ،امید ہے کہ آئندہ چند روز میں ہم کوئی بڑی خبر دیں گے ،انہوں نے کہاکہ ماضی کی نسبت دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ دود ھ اور شہد کی نہریں بہ رہی ہیں لیکن ہر شہری کی جان عزیز ہے اسکے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ،انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے انہیں سزا دلوائی جائے گی ،ہمیں معلوم ہے کہ دہشتگردوں کو کون فنڈنگ اور سپورٹ کررہاہیں داعش کا بلوچستان میں کوئی منظم وجود نہیں نہ ہی یہاں کوئی غیر ملکی دہشتگرد ہیں ،مختلف تنظیمیں ایک دوسرے کیساتھ ملکر کاروائیاں کررہی ہیں ،ہم نے متعدد کاروائیاں کرکے دہشتگردوں کا جینا مشکل کردیا ہے تمام دہشتگردوں کا سینٹرل ڈیٹا بیس بنا چکے ہیں ایک سے دو ہفتے میں نئی ریڈ بک بھی جاری کرینگے ،شہریوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ حکومت کیساتھ تعاون کریں ،انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانی مہاجرین کے بھیس میں یہاں دہشتگرد آتے ہیں لیکن ہم جتنے بھی غیر قانونی طورپر مقیم افغان باشندے ہیں انہیں ان کے وطن واپس بھیج رہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ دہشتگرد سیکورٹی فورسز ،شہریوں کو بلاتفریق نشانہ بنارہے ہیں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور عوام کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے آنیوالے وقت میں ژوب ،سبی ،گوادر،نصیر آباد سمیت دیگر علاقوں میں سی ٹی ڈی کے دفتر بنائے جائیں گے یہ ہماری جنگ ہے اور ہم اسے کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے ،اس موقع پر گرفتار دہشتگرد محمد رحیم کا اعترافی ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا ۔