کرپشن صرف تعلیم کے فروغ سے ختم ہو سکتی ہے، گورنر سندھ

تعلیم یافتہ لوگ آگے آئیں گے تو کرپشن کم ہونا شروع ہوگی، بیٹھک اسکول کی فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب بیٹھک اسکول کو مستقل میں بھی سپورٹ کریں گے، سوئس قونصلر جنرل، بیٹھک اسکول سے اب تک 2لاکھ طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کرچکے ہیں ، سید جمشید احمد، نگہت ملک و دیگر کا خطاب

منگل مئی 20:42

کرپشن صرف تعلیم کے فروغ سے ختم ہو سکتی ہے، گورنر سندھ
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) گورنرسندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم عطیات دینے میں دنیا میں سب سے آگے ہے لیکن ٹیکس دینے کے معاملے پر دنیا میں بہت پیچھے ہے ،،کرپشن صرف تعلیم کے فروغ سے ختم ہو سکتی ہے، تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست یہ ذمہ داری صرف اس وقت نبھا سکتی ہے جب لوگ ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں ، پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے رقم یا تو مزید ٹیکس دینے سے حاصل ہوگی یا پھر ہمیں کسی اور مد میں کٹوتی کرکے یہ رقم حاصل کرنا پڑے گی ۔

عمران خان نے اپنی حالیہ تقریر میں تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھا ہے لیکن میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ تعلیم کے لیے مزید رقم کس مد میں کٹوتی کر کے حاصل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں بیٹھک اسکول نیٹ ورک کے زیر اہتمام فنڈ ریزنگ کے لیے منعقدہ عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پرسوئس قونصلر جنرل فلپ کری وائزر، بیٹھک اسکول نیٹ ورک کی کی صدر نگہت ملک، بیٹھک اسکول ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین جمشید احمد، سی پی ایل سی کے سابق چیف احمد چنائے ، معروف گلوکار جنید جمشید کے صاحبزادے تیمور جمشید، معروف صنعتکار ہارون قاسم اور بزنس کمیونٹی کی نمایاں شخصیات شریک تھیں۔

(جاری ہے)

مختلف شخصیات کی جانب سے بیٹھک اسکول نیٹ ورک کے 18 اسکولوں کو گود لینے کا بھی اعلان کیا گیا۔اسموقع پر لاکھوں روپے کے عطیات کا بھی اعلان کیا گیا اور کئی بچوں نے اپنی جیب خرچ اور اپنے گلک بھی عطیات کیے ۔۔گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا ہے لیکن میرا ان سے سوال ہے کہ وہ تعلیم کے لیے اضافی فنڈز کہاں سے لائیں گے اور کس مد میں کٹوتی کرکے رقم حاصل کریں گے کیونکہ پاکستان 13سو ارب روپے دفاع ، قرض اتارنے کے لیے 17 سو ارب ، صوبوں کو این ایف سی کی مد میں 26 سو ارب دے گا ،جبکہ 1100 سو ارب خسارے کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال صوبوں کو کواین ایف سی کی مد میں 2013 کے مقابلے میں دگنی رقم دی جائے گی جو 26سو ارب کے لگ بھگ ہوگی، کیا یہ رقم عوام پر خرچ ہوتی نظر آرہی ہے یہ اہم سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تعلیم کے فروغ کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے ، تعلیم کا فروغ صوبائی حکومتوں کا کام ہے، ہم دنیا میں سب سے زیادہ عطیات دینے والی قوم ہیں لیکن ٹیکس دینے کے معاملے میں سب سے پیچھے ہیں، ہم تعلیم کے مقابلے میں انڈیا،، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے پیچھے ہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں، انہوں نے کہا کہ سب سمجھتے ہیں تعلیم سب مسائل کا حل ہے، لیکن کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے جس کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہو رہے ،،کرپشن صرف تعلیم کے فروغ سے ختم ہو سکتی ہے،،تعلیم ہوگی تو سب ٹھیک ہوجائے گا،،تعلیم یافتہ لوگ آگے آئیں گے تو کرپشن کم ہونا شروع ہوگی، انہوں نے اس موقع پر بیٹھک اسکول نیٹ ورک کے کام کی تعریف کرتے ہوئے انہیں کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی جو پاکستان میں تعلیمی انحطاط کی وجوہات تلاش کرکے رپورٹ مرتب کرے گی ۔

سوئس قونصلر جنرل فلپ کری وائزر نے کہا کہ انہیں بیٹھک اسکول نیٹ ورک سے سوئس کمپنی کلیرینٹ کے ذمہ داران نے روشناس کرایا جس نے کورنگی میں ایک بیٹھک اسکول کو گود لیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ بیٹھک اسکول نیٹ ورک کے کام سے متاثر ہوکر اس تقریب میں آئے ہیں اور وہ اس نیٹ ورک کو مستقل میں بھی سپورٹ کریں گے ، بیٹھک اسکول نیٹ ورک ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ بیٹھک اسکول نیٹ ورک 1994میں ایک بیٹھک سے شروع ہوا اور آج اس کی 140برانچز سے 2لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو تعلیم دے ر معاشرے کا اہم فرد بنایا جا چکا ہے ، بیٹھک اسکولز میں اس وقت بھی 18ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں ۔

بیٹھک اسکول نیٹ ورک کی سربراہ نگہت ملک کا کہنا تھا کہ ان کا اسکول صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ طالب علموں کی اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک طالب علم نے اسکول آکر اپنے والد کی جرائم پیشہ زندگی کے متعلق بتایا کیوں کہ انہیں اکسول میں بتایا گیا تھا کہ جرم کرنا ایک غیر اخلاقی اور معاشرے کے لیے نقصان دہ عمل ہے ۔