کوئٹہ ،ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف احتجاج ، دھرنا اور تادم مرگ بھوک ہڑتال جاری

کئی شاہراہیں بند ہونے سے ٹریفک کا نظام بھی در برہم

منگل مئی 21:26

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد وحدت المسلمین بلوچستان،، بلوچستان شیعہ کانفرنس اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی سیاسی وسماجی کارکن جلیلہ حیدر کا بلوچستان اسمبلی کے باہر اور پریس کلب کے سامنے احتجاج ، دھرنا اور تادم مرگ بھوک ہڑتال جاری ہے جس کے باعث کئی شاہراہیں بند ہونے سے ٹریفک کا نظام بھی در برہم ہے تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے مختلف میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد کوئٹہ میں بلوچستان شیعہ کانفرنس، وحدت المسلمین اور سماجی کارکن جلیلہ حیدر نے مختلف مقامات پر دھرنا ، احتجاج اور تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر دی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی کارکن اور وکیل جلیلہ حیدر نے ان ہلاکتوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔

(جاری ہے)

ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ آ کر بذاتِ خود حالات کا جائزہ لیں تاکہ انھیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ کہیں شنوائی نہ ہونے کے بعد کیا ہم نے ہر فورم استعمال کیا، ہر جگہ گئے۔ 100 جنازوں کے ساتھ بیٹھے اسی کوئٹہ شہر میں فروری کی ٹھنڈ میں۔

کوئی شنوائی نہیں ہے ہماری کیونکہ سکیورٹی ناکام ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کی ہلاکتیں رکوانے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں لیتا۔ ہمارے نام پر بجٹ آتا ہے، ہماری لاشوں سے تو فائدہ ہوتا ہے۔ جنگ فائدہ مند کاروبار ہے۔ کوئی چاہتا ہی نہیں اسے ختم کریں۔ جب بھی بجٹ آنا ہوتا ہے، الیکشن آنے ہوتے ہیں، بین الاقوامی سیاست ہوتی ہے، کولیشن سپورٹ فنڈ آنا ہوتا ہے تو ہم بچارے قربانی کے بکرے ہوتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کوئٹہ میں شاید اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں کی زندگی کے لئے یہاں بیٹھی ہوں اور تا دم مرگ بیٹھی ہوں۔جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کی تین ہزار بیوائیں آرمی چیف سے جواب چاہتی ہیںانھوں نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک عام شہری کی طرح کوئٹہ کا دورہ کریں تو انھیں لوگوں کی مشکلات کا احساس ہو گا۔

قمر جاوید باجوہ صاحب وردی کے بغیر عام آدمی بن کر ایک بار کوئٹہ آئیں۔ سوچیں وہ کوئٹہ والے ہیں، سوچیں وہ پشتون ہیں، سوچیں وہ بلوچ ہیں۔ میں ان کو اس شہر کی ہر چیک پوسٹ، ہر محلے، ہر گلی کوچے میں رکشے پر لے جاں گی اور دکھاں گی یہاں کے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف تین ہزار ہزارہ بیواں سے ملیں اور ان کے سوالوں کا جواب دیں 20 سال سے جو ہم قتل ہو رہے ہیں اس کے محرکات کیا ہیں اس کے پیچھے کون ہی ہمیں کیوں قتل کیا جارہا ہی نیشنل ایکشن پلان کہاں چلا گیاخیال رہے کہ ہزارہ قبیلے کے افراد پر حملوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے وحدت المسلمین کے شرکاء نیبلوچستان اسمبلی کے باہر دوسرے روز ہڑتال ودھرنا کا سلسلہ جاری رکھا گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے مظاہرین سے ملاقات کی تا ہم مذاکرات ناکام رہی جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چلے گئے جبکہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی ہدایت پر صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کی جانب سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے خواتین سے ملاقات کی تا ہم مذاکرات ناکام رہی رواں سال نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سنہ 2001 سے 2017 تک 16 سال کے دوران ایسے حملوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 525 افراد ہلاک اور سات سو سے زائد زخمی ہوئے۔