محنت کش و مزدور ملک کی معاشی خوشحالی اور صنعت و پیداوار کی ترقی و فروغ میں ریرھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، سید ناصر حسین

منگل مئی 21:31

محنت کش و مزدور  ملک کی معاشی خوشحالی اور صنعت و پیداوار کی ترقی و فروغ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) صوبائی وزیر برائے اطلاعات ، ٹرانسپورٹ و محنت سید ناصر حسین نے کہا ہے کہ آج یوم مئی ہے، یعنی محنت کشوں کی عظمت کو سلام کرنے کا دن ، محنتوں کشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش و مزدور ہمارے وہ بھائی ہیں جو ہمارے ملک کی معاشی خوشحالی اور صنعت و پیداوار کی ترقی و فروغ میں ریرھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ، جو خون پسینہ بہا کر اس ملک کو معاشی طور پر مستحکم کر رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے یوم مئی محنت کشوں کے عالمی دن کے حوالے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے کہی کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے قیام سے ہی اپنے منشور روٹی، کپڑا اور مکان پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کے استحصالی طبقوں اور ان کے حقوق دلانے کی جدوجہد کرتی رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہو ں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ابتدا سے ہی محنت کش طبقہ کی خوشحالی اور ترقی کے لئے اقدامات کررہی ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 10 فروری 1972ء کو پہلی لیبر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مزدوروں کے فلاح وبہبود کی داغ بیل ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے بھی اسی عمل کو آگے بڑہایا اور کارکنان کے جائز حقوق کے لئے مختلف کاوشیں کیں۔ لیبر سے متعلق کئی نئی اسکیمیں متعارف کیں۔صوبائی وزیر محنت سید ناصر حسین شاھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت بھی اسی طرز عمل کو اپنائے ہوئے ہیں۔

صوبہ سندھ کی حکومت نے اس سلسلے میں محنت کشوں کے لئے سب سے زیاد ہ قانون سازی کی ہے تاکہ محنت کشوں کی خوشحالی یقینی بنائے جا سکے۔اور دوران کام ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔پہلی صوبائی سہہ فریقی لیبر کانفرنس منعقد کی جس کی روشنی میں صوبائی لیبر پالیسی کا اعلان کیا گیا۔مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف خوشحالی کے منصوبے شروع کئے جنہیں نہ صرف محنت کشوں بلکہ ان اہل خانہ کو بھی فوائد حاصل ہو سکے ، کئی ہسپتال ، اسکول، کالیج اور دیگر تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں ، اور کئی رہائشی منصوبوں پر عمل جاری ہے۔

صوبائی وزیر محنت و اطلاعات سید ناصر حسین نے مزید کہا کہ تاریخ ساز اٹھارویں ترمیم کے بعد لیبر کا محکمہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگیا اور ہر صوبے کو قانون سازی کا اختیار مل گیا اسی اختیار کے تحت صوبہ سندھ نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ قانون سازی کی ہے جس میں 14 مختلف قوانین منظور اور نافذالعمل کرائے جس کے ساتھ ساتھ اٹھارویں (18) آئینی ترمیم کے بعد صوبہ سندھ وہ واحد صوبہ جس نے 12-11-2017 کو پہلی سندھ لیبر سہہ فریقی کانفرنس منعقد کی جو کہ حکومت سندھ کا منفرد اقدام تھا۔

جس میں سارے معروف صنعتکار ، مالکان اور حکومتی اداروں نے اپنی تجاوزات اور سفارشات ، صنعت اور مزدوروں کی بھتری کے لئے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کیا۔جس کی روشنی میں حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں۔جس میں مختلف بورڈز اور گورننگ باڈیز میں حکومت نے اپنی نمائندگی کم کر کے آجر اور اجیر کی نمائندگی بڑھا دی ہے، جو بلترتیب 20% ، 40% اور 40% کے تناسب سے ہے۔

بعدازاں تقریب سے صوبائی سیکریٹری محنت عبدالرشید سولنگی نے محکمہ محنت کی جانب سے محنت کشوں کے لئے مختلف مراعات ، سہولیات ، ترقیاتی پروگرامز اور منصوبوں کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ مالکان کے نمائندوں مجید عزیز اور سراج قاسم تیلے ، حبیب الدین جنیدی ، کرامت علی نے تقریت سے خطاب کیا اور آئی ایل او کی کنٹری ڈائریکٹر مس انگرینڈ کرسٹن نے بھی پہلی متفقہ سہہ فریقی لیبر پالیسی کے خدوخال اور محنت کشوں کو ملنے والے مراعات اور سہولیات کے حوالے سے محکمہ محنت حکومت سندھ کو سراہتے ہوئے محکمہ محنت ، محنت کشوں اور مالکان کے درمیان سہولتکار وں کی زیادسے زیادہ پالیسیوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے صوبائی وزیر محنت، سیکریٹری محنت اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی ۔

بعدمیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاھ ، سینیٹر رضا ربانی اور صوبائی وزیر برائے محنت، ٹرانسپورٹ ولیبر سید ناصر حسین شاھ نے محنت کشوں میں گرانٹ کے چیک تقسیم کئے۔#