سال2012ء میں بھرتی ہونے والے اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کا تنخواہوں کے اجراء کیلئے جاری دھرنا 16ویں روز بھی جاری رہا

منگل مئی 21:47

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 مئی2018ء) محکمہ اسکول ایجوکیشن میں سال2012میں بھرتی اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کا تنخواہوں کے اجراء کیلئے کراچی پریس کلب میں جاری دھرنا 16ویں دن میں داخل ہو گیا ،یکم مئی کے موقع پرسیکڑوںاحتجاجی اساتذہ نے ریلی نکالی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کی،سابق چیئرمین سینٹ او ر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی کی پریس کلب آمد کے موقع پر اساتذہ نے انہیں گھیر لیا تاہم میاں رضا ربانی انتہائی مختصر وقت میں اساتذہ کو دلاسہ دیکر وہاں سے چلے گئے ۔

تفصیلات کے مطابق سال2012ء میں بھرتی ہونے والے اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف نے منگل کو کراچی پریس کلب سے کچھ فاصلے کی ریلی نکالی اس موقع پر اساتذہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے جس میں چیف جسٹس غریب اساتذہ کیساتھ انصاف کریں ماساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی 6سال سے رکی تنخواہیں جاری کرو،بھٹو اور پیپلز پارٹی روزگار دیتی ہے چھینتی نہیں جیسے نعرے درج تھے جبکہ ریلی کے دوران اساتذہ اور نا ن ٹیچنگ اسٹاف تنخواہیں جاری کرنے کا مطالبہ بھی دہراتے رہے ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر احتجاجی اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے نیو ٹیچرز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ابو بکر ابڑو ،سیکریٹری افضل کوریجو ،ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین ظہیر احمد بلوچ ،،آفتاب میمن ،سدیر احمد اور ملک امداد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اپنی تنخواہوں کے علاوہ کسی دوسرا مطالبہ نہیں ۔ دوسری جانب یوم مئی کے موقع پرکراچی پریس کلب میں منعقدہ تقریب میں سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی آمد کے دوران احتجاجی اساتذہ نے انہیں گھیر لیا اور اپنے مسائل سے آگاہ کیا تاہم میاں رضا ربانی انتہائی مختصر وقت میں اساتذہ کو دلاسہ دیا اور وہاں سے چلے گئے ،اساتذہ کے احتجاجی کیمپ میں یکم مئی کے موقع پر سندھ ہیومن رائٹس فائونڈیشن آف پاکستان کے صدر اسحاق شیخ نے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔