ایشلے جڈ کا ہاروی وائنسٹن پر جنسی ہراساں کرنے کا مقدمہ

ایشلے جڈ کا شمار ہاروی وائنسٹن پر سب سے پہلے الزام لگانے والی اداکاراؤں میں ہوتا ہے

بدھ مئی 11:30

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ 50 سالہ ایشلے جڈ نے خواتین و اداکاراؤں کو ہراساں کرنے والے 65 سالہ فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پر بدنام اور کیریئر تباہ کرنے کا مقدمہ دائر کردیا۔یہ پہلا موقع ہے کہ ہاروی وائنسٹن کے خلاف کسی متاثرہ اداکارہ نے باقائدہ طور پر عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ایشلے جڈ ان 100 سے زائد خواتین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے 65 سالہ ہاروی وائنسٹن پر جنسی طور پر ہراساں کرنے، کام کے بدلے جنسی تعلقات کا مطالبہ کرنے اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔

ایشلے جڈ کا شمار گزشتہ برس اکتوبر میں ہاروی وائنسٹن پر سب سے پہلے الزام لگانے والی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ہاروی وائنسٹن پر ایشلے جڈ اور سلمیٰ ہائیک سمیت متعدد معروف اداکاراؤں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف لاس اینجلس اور لندن پولیس نے تحقیقات شروع کردی تھیں، جو تاحال جاری ہیں۔

(جاری ہے)

ہاروی وائنسٹن کے خلاف الزامات سامنے آنے کے بعد آسکر اکیڈمی نے ان کی رکنیت بھی معطل کردی تھی، جب کہ انہیں ان کی اپنی ہی کمپنی ’میرامیکس‘ نے نوکری سے برطرف کردیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایشلے جڈ نے ہاروی وائنسٹن کے خلاف ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے ٹاؤن سانتا مونیکا میں قائم اعلیٰ عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔عدالت میں دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہاروی وائنسٹن نے انہیں جنسی تعلقات استوار نہ کرنے کے بعد بدنام کیا اور ان کے کیریئر کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔

درخواست میں فلم ساز پیٹر جیکسن کی فلم سیریز ’لارڈ آف دی رنگز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اداکارہ کو اس فلم میں ہاروی وائنسٹن کے کہنے پر کاسٹ نہیں کیا گیا۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاروی وائنسٹن نے ’لارڈ آف دی رنگز‘ کی ٹیم کو اداکارہ کو کاسٹ کرنے سے روکا، جس وجہ سے اداکارہ کا کیریئر اونچائی پر نہیں پہنچ سکا، کیوں کہ یہ فلم سیریز انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔ایشلے جڈ نے ہاروی وائنسٹن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے بعد اعلان کیا کہ اگر وہ یہ کیس جیت گئیں تو وہ تمام رقم خواتین کو محفوظ بنانے کی مہم ’ٹائمز اپ‘ کے حوالے کردیں گی۔

متعلقہ عنوان :