امریکا اور اسرائیل کا ایٹمی تعاون این پی ٹی کی خلاف ورزی ہے، ایران

بدھ مئی 11:30

جنیوا ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے میں ایران کے مستقل مندوب رضا نجفی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا ایٹمی تعاون این پی ٹی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی مندوب نے جنیوا میں این پی ٹی معاہدے پر نظرثانی کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے این پی ٹی پر پوری طرح سے عمل کیا ہے، نیٹو کے پرچم تلے یورپ میں امریکا کے ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیب، ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے اسرائیلی حکومت کی مدد اور این پی ٹی سے باہر کے ملکوں کے ساتھ ایٹمی تعاون اس عالمی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اس وقت تک ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملکوں کے ذریعے ان ہتھیاروں کے پھیلاؤ، ان کو دوسرے ملکوں میں منتقل کئے جانے اور ان کی پیداوار میں اضافے کا خطرہ باقی رہے گا۔

(جاری ہے)

ایرانی مندوب نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا واحد راستہ ان کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو بعض ایٹمی ملکوں خاص طور پر امریکا کے ذریعے ایٹمی معاملات میں اپنائے جانے والے دوہرے معیار کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی حکومت کا ایٹمی پروگرام این پی ٹی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔