مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے بارہمولہ میں تین شہریوں کے قتل کے شدید مذمت

نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کی طرف سے سانحہ کٹھوعہ کو معمولی قراردینے پر شدید تنقید

بدھ مئی 11:52

سری نگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے ضلع بارہمولہ میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں تین شہریو ں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت رہنمائوں نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہاکہ بار بار لوگوں کو اس طرح قتل کیا جاتا ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ قاتل کون ہے کیونکہ وہ سرکاری بندوق بردار کہلاتے ہیںجنہیں بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

انہوںنے کہاکہ تاہم یہ معاملہ شدید تشویشناک ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوںنے اقوام متحدہ سے اپیل کہ ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات کی غیر جابندارانہ تحقیقات کرائے۔

(جاری ہے)

مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ سیاسی یا تنظیمی وابستگیوں کی بنیاد پر کسی کو قتل کرنا غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل ہے اور اس طرح کے قتل کے واقعات کشمیری عوام اور حریت قیادت کو قابل قبول نہیں ہے۔

حریت قائدین نے بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کی طرف سے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ ننھی بچی آصفہ کی عصمت دری اور قتل کوایک معمولی واقعہ قرار دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس بیان سے انکی بیمار اورفرقہ پرست ذہنیت ظاہر ہوتی ہے ۔ سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا کہ عصمت دری کے مرتکب مجرموں کے حق میں ریلیاں نکلانے والے روندرجسروٹیا کی نام نہاد کابینہ میں شمولیت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بی جے پی محض ووٹ حاصل کرنے کیلئے معاشرے میں تقسیم اور ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے کی اپنی پالیسی سے ذرا بھی ہٹنے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔

ادھر ہائی کورٹ با رایسوسی ایشن نے بھی سرینگر میںجاری ایک بیان میں ضلع بارہمولہ میں تین شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔بار ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کٹھ پتلی نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کے حالیہ بیان کہ کٹھوعہ کی ننھی آصفہ کی بے حرمتی اورقتل ایک چھوٹا معاملہ جس پر اتنا شور شرابا نہیں کیاجاناچاہیے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے مہذب اقوام اس غیر انسانی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کوسزا موت دینے کا مطالبہ کررہے ہیںکویندر گپتا کا بیان شرمناک اور انتہائی قابل مذمت ہے ۔

انہوںنے کہاکہ کویندر گپتا ان درندوں کی حمایت کر رہے ہیں جنہوںنے ننھی بچی کو ایک ہفتہ تک مندر میں قید میں رکھتے ہوئے اسے نشہ آور ادویات دیکربار بار اسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا۔ ترجمان نے کہاکہ بی جے پی کے کویندر گپتا جو گزشتہ تین سال سے نام نہاد اسمبلی کے اسپیکر تھے کو اب نائب وزیر اعلیٰ بنادیاگیا ہے بھی بیٹیوں کے والد ہوں گے اور انہیں آٹھ سالہ ننھی آصفہ کی عزت و احترام کا خیال رکھنا چاہیے ۔ انہوںنے اپنے حالیہ بیان سے نہ صرف اپنے اہلخانہ بلکہ دنیا بھر کے مہذب معاشرے کی نظروں میںخود کر گرا لیا ہے۔