مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ سلامتی کونسل کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرے گا

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا مباحثے کے دوران اظہار خیال

بدھ مئی 13:00

مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ سلامتی کونسل کی کارکردگی پر منفی اثرات ..
اقوام متحدہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ اس کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے موضوع پر ایک مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے اصلاحات کی کوششیں جاری رکھنے کی حامی ہیں۔

سلامتی کونسل اپنی کارکردگی کے حوالے سے مختلف مسائل کا شکار ہے اور اس کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کو بڑھا دے گا۔انٹر گورنمنٹل ڈیبیٹ میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کے حامی ممالک کا موقف یہ ہے کہ مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ سے اس کی کارکردگی میں خامیوں میں کمی آئے گی لیکن حقیقت میں اس کے نتیجے میں طوائف الملوکی، نااہلیت اور ادارے کے ممکنہ طور پر مفلوج ہوجانے کے خدشات پیدا ہوجائیں گے۔

(جاری ہے)

اس سے اصلاحات کے عمل کے جمہوری اور نمائندہ ہونے بارے بھی خطرات پیدا ہوجائیں گے اور جوابدہی کا عنصر کم ہوجائے گا۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی طرف سے بعض اہم عالمی امور پر بعض مخصوص ممالک کی حمایت کی وجہ سے کئی تنازعات اس وقت بھی طویل عرصہ سے حل طلب ہیں، کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کے نتیجہ میں یہ صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس وقت صرف اس بات پر اتفاق رائے موجود ہے کہ سلامتی کونسل میں توسیع کی جائے اور اس عمل میں منتخب اور غیر مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے لیکن بعض ممالک اپنے لئے کونسل کی مستقل رکنیت پر مصر ہیں اور اس طرح وہ ہر لمحہ تبدیل ہوتے مسائل کا ایک جامد حل پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ممالک اپنے متعلقہ خطوں کی خودساختہ نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ ان کے خطوں کے دیگر ممالک نے انہیں اپنی نمائندگی کی ذمہ داری نہیں سونپی۔

انہوں نے کونسل کے غیر مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے غیر مستقل ارکان نے ہمیشہ کونسل کے فورم پر شفافیت کو فروغ دینے کی کوشش کی اور ہمیں یقین ہے کہ کونسل میں ویٹو کے باعث پیدا ہونے والے عدم توازن کو غیر مستقل منتخب ارکان کی تعداد میں اضافے سے دور کیا جائے۔ صرف اس صورت میں ہی سلامتی کونسل میں فیصلہ سازی کے عمل میں حقیقی تبدیلی لائے گا اور سلامتی کونسل کے جواز اور اس کے موثر ہونے میں تقویت کا باعث ہوگا۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات پر مذکرات کا آغاز فروری 2009 ء میں ہوا تھا جس پر بڑی حد تک اتفاق رائے بھی موجود تھا تاہم اس کی تفصیلات پر شدید اختلافات سامنے آئے۔ بھارت،، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل گروپ آف فور نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے لئے مستقل رکنیت مانگی جبکہ پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں ایک بڑے گروپ نے مستقل ارکان کی بجائے غیر مستقل منتخب ارکان کی تعداد میں اضافے پر زور دیا اور موقف اپنایا کہ اس طرح کونسل کو زیادہ جمہوری اور نمائندہ بنا کر اس کی کارگردگی کو موثر تر بنایا جاسکتا ہے۔