ْکھڈیاں خاص‘ پیال کلاں بنیادی مرکز صحت میں سہولیات کے خود ساختہ فقدان‘

دوائیں بھی غائب دور دراز سے آئے مریض خالی ہاتھ دھکے کھاتے اپنے گھروں کو جانے پر مجبور ‘کوئی پرسان حال نہیں

بدھ مئی 13:00

کھڈیاں خاص (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پیال کلاں بنیادی مرکز صحت میں سہولیات کے خود ساختہ فقدان کے ساتھ ساتھ دوائیں بھی غائب ۔ دور دور سے آئے مریض خالی ہاتھ دھکے کھاتے اپنے گھروں کو جانے پر مجبور ۔ کئی مریضوںنے میڈیا سے بات کرتے ہو ئے بتایا کہ ہم صبح نو بجے سے ہسپتال آئے اور کئی ایسے بھی مریض سامنے آئے ہیں جن کا کہنا تھا کہ ہم تین دنوں سے دوائی لینے کے لئے آ رہے ہیں ۔

نہ ہی ڈاکٹر کو موجود پایا اور نہ ہی دوائی مل سکی ۔ بس یہ کہہ کر ٹا ل دیا جاتا کہ ڈاکٹر صاحب چھٹی پر ہیں آپ کل آجائیں کچھ مریضوں کو شناختی کارڈ نہ ہونے پر کہا جاتا ہے کہ شناختی کارڈ لے کر آئیں پھر دوائی ملے گی ۔ شناختی کارڈ لے کر آتے ہیں تو پھر پرچی پر دوائی لکھ کر دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ قصور سے جا کر خرید لیں ۔

(جاری ہے)

دھائیاں دیتے ہوئے مریضوں نے شکایات کے انبار لگادئیے ہم کدھر جائیں نہ تو ڈاکٹر ملتا ہے اور نہ دوائی ۔

پینا ڈول تک دکھائی نہیں دیتی ۔ اگر کسی مریض کی حالت زیادہ خراب ہو تو اسے ایک ڈرپ دے دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ انجکشن باہر سے خرید لیں ہمارے پاس موجود نہیں ۔ لوگ روتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں ۔ لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ ہسپتال میں بھی سیاست کا بول بالا دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی لوگوں کی طرف سے بھیجے جانے والے مریضوں کو ہسپتال میں ہی ڈرپ لگا دی جاتی ہیں ۔

اور ان کی خوب دیکھ بھال بھی کی جاتی ہے ۔ ہسپتال میں موجود جب انتظامیہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ جب سے ہسپتال ٹھیکے پر ہوا ہے ۔ تب سے ہمیں اوپر سے آرڈر ہیں کہ اگر کوئی ٹیم اوپر سے آجائے تو صرف اس کو ٹیم کا سٹاک دکھانا ہے ۔ تا کہ انہیں پتہ چلے کہ ہسپتال میں مکمل دوایاں موجود ہیں ۔میڈیا کو سٹور میں دائیں دیکھنے سے روک دیا گیااور بڑی سختی سے کہا گیا کہ آپ کون ہوتے ہیں ۔

سٹور چیک کرنے والے ۔ LHVتو آخری حد کراس کر گئی موصوفہ کہتی تھیں کہ میں آپ لوگوں کی FIRکٹوا دوں گی اور میڈیا کی ٹیم سے دفع ہوجانے کا کہا اور کہا کہ ہماری مرضی ہم جو مرضی کریں ۔ یہ نظام ایسے ہی چلے گا ۔ ڈی سی او تو کیا سی ایم بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔ سی او ہیلتھ علی عامر کہتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا آپ ڈسٹرکٹ مینجر سے بات کریں وہ ہی کچھ کریں گے ۔ تمام مریضوں اور لواحقین نے اعلیٰ احکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔

متعلقہ عنوان :