رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی بجٹ اقدامات کے خلاف عدالت جانے کی دھمکی

پالیسی یکسربدلنے کے بجائے ایف بی آروڈی سی ویلیومیں فرق بتدریج کم کرنے کاطریقہ اپنایا جائے،ریئل اسٹیٹ انویسٹرز فورم

بدھ مئی 13:49

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی بجٹ اقدامات کے خلاف عدالت جانے کی دھمکی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹرز فورم نے جائیداد کی خریدوفروخت میں غلط بیانی اور اصل قیمت سے کم قیمت پر سودے ظاہر کرنے کی روک تھام کے لیے وفاقی بجٹ 2018-19 میں تجویز کردہ اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ سے کم قیمت ظاہر کیے جانے کی صورت میں متعلقہ جائیداد حکومت کی ملکیت میں لے لی جائے گی اس مقصد کے لیے ریئل اسٹیٹ بائی بیک اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔

جس پر عمل درآمد کے لیے غیرمنقولہ جائیداد سے متعلق ڈائریکٹوریٹ جنرل قائم کرنے کی تجویز بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔ فورم کے اراکین کے مطابق اگرچہ حقیقی ویلیو سے کم ظاہر کرکے کیے جانے والے سودوں کی روک تھام وقت کی ضرورت ہے تاہم حکومت نے حقیقی مسئلے کے حل کے لیے غلط طریقہ اختیار کیا ہے جس سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کی جانے والی سرمایہ کاری متاثر ہوگی، دوسری جانب یہ تجویز آئین کے آرٹیکل 24 سے بھی متصادم ہے جو عام شہری کی جائیداد حکومتی تحویل میں لینے کے لیے ریاست کی حد مقرر کرتی ہے۔

(جاری ہے)

وفاقی بجٹ میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق تجاویزپر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹرز فورم نے کہا ہے کہ حکومت نے مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت ظاہر کرکے کیے جانے و الے سودوں کی روک تھام کے لیے متعلقہ جائیداد اس قیمت کی ادئیگی کرکے حکومتی تحویل میں لینے کی تجویز دی ہے تاہم اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی کہ جائیداد کی حقیقی قیمت کا تعین کس طرح کیا جائے گا۔

اس طرح کی کسی کارروائی کا آغاز کس طرح کیا جائے گا اور یہ کارروائی پوری کرنے میں کتنا عرصہ لگے گا، ایسے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق ہوگا یا نہیں اورغیرمنقولہ جائیداد سے متعلق ٹریبونل سے اپیل خارج کرنے کا کیا طریقہ کار ہوگا۔ فورم کے مطابق ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری اور خریدوفروخت دیگر کماڈیٹیز سے یکسر مختلف ہے، جائیداد کی قیمت کا تعین محل وقوع اور جائیداد کی ملکیت کے کسی تنازع سے پاک ہونے کی بنیاد پر ہوتا ہے، اسی طرح خریدار کی جانب سے یکمشت اور فوری ادائیگی پر بھی رعایت دی جاسکتی ہے۔

ضرورت کے وقت کم قیمت پر بھی جائیداد فروخت کی جاتی ہے جسے کسی صورت مس ڈکلیریشن قرار نہیں دیا جاسکتا، اس قسم کے کسی سودے پر مجوزہ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی اور خریدوفروخت حقیقی قیمت پرثابت ہونے کے باوجود مذکورہ جائیداد کی قیمت پر اثر پڑے گا۔ فورم کے اراکین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی شہری کی املاک کو سرکاری تحویل میں لینے کی ریاستی حد آئین کے آرٹیکل 24میں مقرر کی گئی ہے، یہ آرٹیکل ریاست کو کسی بھی پاکستانی شہری کی املاک کو زور زبردستی اپنی ملکیت میں لینے سے روکتا ہے۔

ریاست صرف اس صورت میں نجی املاک کو سرکاری تحویل میں لے سکتی ہے جبکہ مذکورہ اراضی یا املاک کو ریاست کے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا مقصود ہو، اس بنیاد پر وفاقی فنانس ایکٹ 2018میں تجویز کردہ طریقہ کار کو آئین کی خلاف ورزی سمجتھے ہوئے اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ ریئل اسٹیٹ انویسٹرز فورم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ 2016میں ایف بی آر اور ڈی سی ویلیو کے فرق کو بتدریج کم کرنے کے لیے متعارف کرائے جانے والے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے پالیسی میں یکسر تبدیلی سے اجتناب کیا جائے ورنہ سرمایہ کاری متاثر ہوگی جس سے معیشت کی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی، حکومت کو ریونیو اہداف پورنے کرنے میں دشواری کا سامنا ہوگا۔

متعلقہ عنوان :