خواجہ آصف نے نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

غذات نامزدگی میں بیرون ملک کا بینک اکاؤنٹ غیر ارادی طور پر ظاہر نہ کر سکا ،ْ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قیاس آرائیوں پر مبنی فیصلہ دیا ،ْ درخواست میں موقف

بدھ مئی 14:22

خواجہ آصف نے نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنی نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔خواجہ آصف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ کاغذات نامزدگی میں بیرون ملک کا بینک اکاؤنٹ غیر ارادی طور پر ظاہر نہ کر سکا، اکاؤنٹ میں کاغذات نامزدگی کے ڈیکلیئرڈ اثاثوں کی 0.5 فیصد رقم تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ موجودہ رٹ دائر ہونے سے قبل بینک اکاؤنٹ اور اقامہ ظاہر کر چکا تھا۔خواجہ آصف نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اور قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن ختم کیا جائے۔سابق وزیر خارجہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر شواہد غیر فعال بینک اکاؤنٹ کو ظاہر نہ کرنا بدنیتی قرار دیا جبکہ عدالتی فیصلے میں ملکی اور یو اے ای قوانین کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

(جاری ہے)

خواجہ آصف نے کہا کہ ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے رویے کو بھی سامنے رکھنا ہوتا ہے ،ْدرخواست گذار نے عدالت سے حقائق چھپائے۔سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں 6.8 ملین روپے کی بیرونی آمدن کو ظاہر کیا اور ظاہر کردہ آمدن میں تنخواہ بھی شامل تھی ،ْ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قیاس آرائیوں پر مبنی فیصلہ دیا۔رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ رٹ 2017 میں دائر ہوئی اور 2015 میں اقامہ ظاہر کیا، اس لیے خود سے اکاؤنٹ ظاہر کرنے کے عمل کو بدنیتی نہیں کہا جا سکتا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر 26 اپریل کو فیصلہ سناتے ہوئے تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے 35 صفحات پر مشتمل فیصلے میں خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا۔