اسحاق ڈار اثاثہ جات ضمنی ریفرنس:

استغاثہ کے گواہ شیر دل خان کا بیان قلمبند، جرح مکمل اسحاق ڈار کو 4 سال میں تنخواہ اور الاؤنسز کی مد میں 7 لاکھ 26 ہزار 640 روپے ادا کیے گئے ،ْ شیر دل خان کا عدالت میں بیان

بدھ مئی 14:22

اسحاق ڈار اثاثہ جات ضمنی ریفرنس:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور شریک ملزمان کے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ شیر دل خان کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔ بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنس پر سماعت کی۔۔سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فنانس شیر دل خان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وہ 22 اگست 2017 کو نیب لاہور میں تفتیشی افسرکے روبرو پیش ہوئے اور 1993 سے 1996 تک اسحاق ڈار کے سیلری اور الاؤنسز کا ریکارڈ پیش کیا۔

شیر دل خان نے عدالت کو بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ اسحاق ڈار کو 4 سال میں تنخواہ اور الاؤنسز کی مد میں 7 لاکھ 26 ہزار 640 روپے ادا کیے گئے۔گواہ نے بتایا کہ نیب نے دستاویزات وصول کرکے ان سے ایک میمو پر دستخط بھی لیے جس کے بعد وکیل صفائی قاضی مصباح نے گواہ شیر دل خان پر جرح مکمل کی۔

(جاری ہے)

دوسری جانب گواہ محمد عظیم پر جرح نہ ہوسکی، جن کے مرکزی ریفرنس میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کو ہی گذشتہ سماعت پر ضمنی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا تھا۔

بعدازاں اسحاق ڈار اور ضمنی ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان کے خلاف سماعت 9 مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔۔سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا ،ْاسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں تاہم بعدازاں مسلسل غیر حاضری پر احتساب عدالت نے 11 دسمبر 2017 کو اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا تھا۔رواں برس 26 فروری کو نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ضمنی ریفرنس بھی احتساب عدالت میں دائر کیا، جس میں نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد کے علاوہ نعیم محمود اور منصور رضوی کو بھی شریک ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا۔