مراکش کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گی:

سعودی عرب، بحرین ایران کی طرف سے مراکشی علیحدگی پسند گروپ کی معاونت قابل مزمت ہے ، سعودی حکام تہرا ن خلیجی مما لک کے اندرونی معا ملا ت میں مداخلت سے با ز رہے،مراکش

بدھ مئی 14:50

جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) سعودی عرب اور بحرین نے ایران کی طرف سے افریقی ملک مراکش کے اندرونی معاملات میں مداخلت اورعلیحدگی پسند گروپ کی مدد کی شدید مذمت کی ہے۔ دونوں خلیجی ملکوں نے مراکش کی سلامتی، استحکام اور سالمیت کے لیے ہر طرح کا تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مملکت مراکش کی سلامتی اور وحدت کو لاحق خطرات کے تدارک کے لیے رباط کے ساتھ ہے۔

سعودی عہدیدار نے ایران کی طرف سے مراکش میں مداخلت اور علیحدگی پسند گروپ بولیسارو کے ارکان کو حزب اللہ کی طرف سے تربیت فراہم کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ادھر خلیجی ریاست بحرین نے بھی مراکش کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نہ صرف مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے بلکہ تہران کی طرف سے افریقی ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں۔

ایران کی طرف سے مراکش کی سلامتی کو لاحق خطرات کے تدارک کے لیے رباط کے ساتھ ہرممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔خیال رہے کہ مراکش نے ایران کی طرف سے علاحدگی پسند گروپ پولیسارو کے جنگجوؤں کو تربیت فراہم کیے جانے کے دعوے کے بعد رباط میں متعین ایرانی سفیر کو نکال دیا گیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنازع اس وقت پیدا ہوا جب مراکش نے دعویٰ کیا کہ ایران مغربی صحارا میں علاحدگی کے لیے لڑنیوالے پولیسارو گروپ کی مدد کررہاہے۔ اس کے جنگجوؤں کو حزب اللہ ملیشیا کے زیر نگرانی عسکری تربیت مہیا کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :