نگران حکومت تجارتی خسارے پر قابو پانے میں ناکام ہوئی تو واحد حل آئی ایم ایف ہو گا،وزیر خزانہ

اگر آئی ایم ایف کے مطابق چلیں تو قرض لینے کی ضرورت نہیں ،بجٹ میں موجود بے ترتیبی کو 2 ہفتوں میں ٹھیک کر لیا جائیگا،نومنتخب وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل کا پوسٹ بجٹ سمینار سے خطاب

بدھ مئی 14:50

نگران حکومت تجارتی خسارے پر قابو پانے میں ناکام ہوئی تو واحد حل آئی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ اگر حکومت تجارتی خسارے پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی تو اس صورت میں مالی امداد کیلئے پاکستان کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا ہوگا۔گزشتہ روز انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان (آئی سی اے پی) کی جانب سے منعقدہ پوسٹ بجٹ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ جو اقدامات مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں، اس صورت میں آئی ایم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی،میں چیزوں کو بہتر حالت میں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر نگراں حکومت نے انہیں ماہ جون تک معمول کے مطابق چلایا تو ملک کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضروت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم وہ کریں جو آئی ایم ایف ہم سے کروانا چاہتا ہے تو پھر ہمیں ان سے قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی،تاہم آئی ایم ایف کی ’بھتہ خوری‘ سے قبل ہمیں اپنی درآمدات کو کم کر کے برآمدات کو بڑھا کر اپنے مالی امور کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ آئندہ مالی سال 19-2018 کے بجٹ میں جتنی بھی بے ترتیبی موجود ہے اسے 2 ہفتوں میں ٹھیک کر لیا جائیگا،حکومت نے ٹیکس کی شرح کو کم کردیا ہے جس کیوجہ سے ہر کوئی ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائیگا کیونکہ اس وقت ملک کی 20 کروڑ آبادی میں سے صرف 12 لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار افراد کے ٹیکس میں نرمی سے حکومت کی آمدن میں کمی ضرور ہوگی تاہم طویل مدت میں اس سے فائدہ ہوگا کیونکہ اس طرح زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائیں گے۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال میں جون کے اختتام تک 39 کھرب 35 ارب روپے ٹیکس کی مد میں آمدن ملے گی،مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے محصولات کی وصولی کو اپنے دورِ حکومت میں دوگنا کیا ہے اور راوں مالی سال بھی حکومت نے 44 کھرب 50 ارب روپے کا ہدفف مقرر کیا تھا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے افراطِ زر کی شرح 6 فیصد، ترقی کی زرح 6.15 فیصد جبکہ آمدن میں 11 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے،ترقی کی شرح 8 سے 10 فیصد تک ہونی چاہیے تاکہ ملک سے غربت کا ختمہ کیا جاسکے اور ملازمتوں کے مواقع دیے جاسکیں جیسا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کرتے ہیں۔مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ اس معاملے کیلئے آئندہ چند روز میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائیگی۔

اس موقع پر آئی سی اے پی کی فسکل لا کمیٹی کے چیئرمین اشفاق تولہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کچھ بے ترتیبی ہے جسے درست ہونے کی ضرورت ہے،آئی سی اے پی اس ضمن میں تمام تر کوششیں کر رہا ہے، جس کیلئے ایف بی آر کیساتھ طویل سیشنز بھی منعقد کیے جاچکے ہیں جن میں ادارے کی جانب سے تجاویز پیش کی گئیں اور ان میں اکثر کو ایف بی آر نے قبول بھی کرلیا۔

متعلقہ عنوان :