نیب کا پرویز مشرف کے اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر کاروائی کا فیصلہ ،رپورٹس طلب

سابق آرمی چیف جنرل (ر)پرویز مشرف نے جنرل (ر) یوسف خان کو 85 پلاٹ غیر قانونی طور پر الاٹ کئے ،نیب

بدھ مئی 15:03

نیب کا پرویز مشرف کے اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر کاروائی کا ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق آرمی چیف اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے ’اختیارات کے غلط استعمال‘ اور جنرل (ر) یوسف خان کو 85 پلاٹ غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کی رپورٹ طلب کر لی۔۔پاکستان آرمی کے کرنل (ر) ایڈووکیٹ انام الرحیم کی جانب سے سابق آمری چیف جنرل (ر) پرویز مشرف اور سابق نائب آرمی چیف جنرل (ر) یوسف خان کیخلاف نیب میں درخواست دائر کی گئی تھی،اس درخواست پر نیب کی جانب سے درخواست گزار کو ایک نوٹس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ان الزامات کی تحقیقات جاری ہیں،جس میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ درخواست گزار کے پاس مذکورہ الزامات کے حوالے سے شواہد یا معلومات موجود ہیں۔

نیب کی جانب سے درخواست گزار کو متنبہ کیا گیا کہ اگر وہ سابق جرنیلوں کیخلاف الزامات کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے تو انہیں قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) 1999 کی دفعہ 2 کے تحت تعزیری نتائج بھگتنا ہوں گے۔

(جاری ہے)

این اے او 1999 کی دفعہ 2 کے مطابق ’اگر کوئی شخص نیب اہلکاروں یا پھر کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کو پوچھے گئے سوالات کے جواب نہ دینے یا پھر معلومات فرام کرنے میں ناکامی کی صورت میں 5 سال تک کی قیدِ بامشقت کی سزا دی جاسکتی ہے‘۔

واضح رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے حال ہی میں بپلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ان کیمرہ بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ جب سے نیب نے اپنا کام کرنا شروع کیا تب سے اب تک این اے او 1999 کی دفعہ 2 کے تحت صرف 2 افراد کو ہی سزا دی جاسکی ہے۔نیب کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق مجاز اتھارٹی نے درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سنجیدگی سے لیا ہے،لہٰذا درخواست گزار کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور اس حوالے سے سابق آرمی چیف کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کے حوالے سے شواہد نیب کے سامنے پیش کریں۔

اس سے قبل کرنل (ر) انعام الرحیم نے یہ درخواست نیب میں 5 سال قبل جمع کرائی تھی،تاہم نیب نے اس درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ نیب کے پاس سابق آرمی افسران کیخلاف کارروائی کا آئنی اختیار موجود نہیں ہے،جس کے بعد درخواست گزار نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایک حالیہ فیصلے کے مطابق نیب نے درخواست گزار کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کی دفعات کی تشریح میں غلطی کی تھی،لہٰذا اس فیصلے نے نیب کو سابق آرمی افسران کیخلاف کارروائی کیلئے اہل بنادیا۔

درخواست گزار کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے عہدے اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق اور پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کی۔درخواست کے مطابق جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے ماتحت افسران کو نواز، اور سینئر افسران کو عہدے کے استحقاق سے زائد پلاٹس الاٹ کیے۔

درخواست گزار کی جانب سے یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے جنر (ر) یوسف خان کو 85 پلاٹس،جن میں کمرشل اور رہائشی پلاٹس شامل ہیں، الاٹ کیے تھے۔درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف 1999 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا اقدار ختم کرتے ہوئے خود ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے، اور اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے 2 مرتبہ پاکستان کا آئین توڑا تھا۔

درخواست گزار نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ہی بلوچ رہنما اکبر خان بگٹی کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے، جج کو برطرف اور قید کیا تھا، کراچی میں 12 مئی 2007 کو ہونے والے قتلِ عام کے ماسٹر مائنڈ تھے، اور اس کیساتھ ساتھ ملک میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی تھی جسے 2009 میں سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیدیا تھا۔