نووو نارڈسک کے پہلی سہ ماہی کے خالص منافع میں 6 فیصد اضافہ

جنوری سے مارچ کے دوران کمپنی کا منافع 10.7 ارب کرونر رہا

بدھ مئی 15:18

نووو نارڈسک کے پہلی سہ ماہی کے خالص منافع میں 6 فیصد اضافہ
سٹاک ہوم ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) ڈنمارک کی دواساز کمپنی ’’ نووو نارڈسک ‘‘نے کہا ہے کہ 2018 ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس کے خالص منافع میں 6 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ انسولین سمیت شوگر کی ادویات کی فروخت میں اضافہ ہے۔۔کمپنی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران اس کا خالص منافع 10.7 ارب کرونر (1.44 ارب یورو، 1.72 ارب ڈالر)) رہا جو 2017 ء کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ 2018 ء کے دوان اس کی مصنوعات (ادویات) کی ملکی کرنسی میں فروخت میں 3-5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔اس سے قبل مصنوعات کی فروخت میں 2-5 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ کمپنی دنیا بھر میں انسولین بنانے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے اور عالمی ضرورت کی 46 فیصد انسولین یہی بناتی ہے۔

(جاری ہے)

کمپنی کی 84 فیصد ادویات کا تعلق شوگر کے مرض سے ہے جن میں اس کی مشہور ترین ’’ تریسیبا انسولین اور وکٹوزا ‘‘ شامل ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او )کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 1980ء میں دنیا بھر میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 108 ملین تھی جو 2014 ء میں بڑھ کر 422 ملین سے تجاوز کرگئی، اس عرصے کے دوران بالغ افراد کی تعداد بڑھ کر دگنی ہوگئی ہے جو شوگر کے کل مریضوں کے 8.5 فیصد کے برابر ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ 2015 ء کے دورا دنیا بھر میں ہونے والی 1.6 ملین (16 لاکھ) اموات شوگر کے باعث ہوئیں جبکہ 2012 ء میں خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث 2.2 ملین افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

متعلقہ عنوان :