یورپی رہنمائوں کاامریکہ سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے پر زور

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دعووں نے اس بارے میں کوئی شک پیدا نہیں کیا کہ ایران معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہا،ردعمل

بدھ مئی 15:37

برسلز/لندن/پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) امریکہ کے یورپی اتحادی ملکوں نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کے الزامات پر محتاط ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی پاسداری کرے،شبہ ہے اسرائیل نے وزیرِاعظم نیتن یاہو کی پیر کی پریس کانفرنس سے قبل وائٹ ہائوس کو اس بارے میں اعتماد میں لیا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے جوہری معاہدے کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کی پریس کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران حکومت کے جوہری عزائم کو قابو میں رکھنے کے لیے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔

(جاری ہے)

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے الزامات پر ردِ عمل دیتے ہوئے بورس جانسن نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2015ء کے معاہدے کے تحت عالمی معائنہ کاروں کو ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کا جو اختیار دیا گیا ہے، وہ کتنا ضروری اور اہم ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے کے ایک ترجمان نے بھی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کرنے والی عالمی طاقتیں ایران کے جوہری عزائم کے متعلق کبھی بھی کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھیں اور اسی لیے جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی جانب سے ایرانی تنصیبات کے تفصیلی اور کڑے معائنے کی شرائط معاہدے میں شامل کی گئیں۔

فرانس کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی تفصیلات کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کی ضرورت مزید واضح ہوگئی ہے۔۔یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے واضح کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دعووں نے اس بارے میں کوئی شک پیدا نہیں کیا کہ ایران معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔

ایک فرانسیسی سفارت نے کہا کہ فرانس کے حکومتی حلقوں میں عام تاثر یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم کی پریس کانفرنس میں وائٹ ہاو?س کا تعاون بھی شامل تھا۔سفارت کار نے کہا کہ فرانسیسی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ صدر ٹرمپ یورپی اتحادیوں کی تمام تر مخالفت اور انہیں قائل کرنے کی کوششوں کے باوجود ایران کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔