کاشتکاروں کو بی ٹی کے ساتھ ساتھ کم از کم10فیصد رقبہ پر نان بی ٹی اقسام کی کاشت کی ہدایت

بدھ مئی 16:00

فیصل آباد۔2 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوت مدافعت روکنے کیلئے کاشتکاروں کو بی ٹی کے ساتھ ساتھ کم از کم10فیصد رقبہ پر نان بی ٹی اقسام کی کاشت کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کاشتکار 15مئی تک ہر صورت کپاس کی کاشت مکمل کر لیں اور اگر انہیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین زراعت نے کپاس کے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ بی ٹی اقسام کا انتخاب علاقے کی موز ونیت ، مقامی معلومات اور پچھلے سالوں کے تجربات کی روشنی میں کریں۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار بی ٹی اقسام کے ساتھ کم ازکم 10فیصد رقبہ نان بی ٹی اقسام بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوت مدافعت پیدا نہ ہوسکے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ کاشتکار شرح بیج 6تا10کلوگرام فی ایکڑ اگائو کے مطابق استعمال کریں اور بوائی سے پہلے بیج کو محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کی سفارش کردہ کیڑے مار زہر ضرور لگائیں جس سے فصل ابتداء میں تقریباًایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طورپر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لائنوں میں کاشت کی صورت پہلی آبپاشی بوائی کے 30سی40دن بعد جبکہ باقی آبپاشیاں 12سے 15دن کے وقفہ سے کریں تاہم پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر فصل کی آبپاشی بھی کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :