حکومت نے خوشحال اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے ہر بچے کو تعلیمی نیٹ میں لانے بارے جامع پالیسی متعارف کروادی ہے ،پالیسی کے تحت ملک کا ایک بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہ سکے گا، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت انجینئرمحمد بلیغ الرحمن کا اوپن یونیورسٹی میں "بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور نگہداشت" بارے قومی کانفرنس سے خطاب

بدھ مئی 16:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت انجینئرمحمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے خوشحال اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے ملک کے ہر بچے کو تعلیمی نیٹ میں لانے کے لئے ایک جامع پالیسی متعارف کروا دی ہے جس کے تحت ملک کا ایک بھی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہ سکے گا۔انہوں نے یہ بات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں "بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور نگہداشت"کے موضوع پر دوسری 2۔

روزہ قومی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس کا اہتمام وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ،ْہائر ایجوکیشن کمیشن ،ْ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور رُپانی فائونڈیشن نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت ملک کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بچوں کو قومی ترقی کے مین سٹریم میں لانے کے لئے بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز رکھنے کا عہد کیا۔

کانفرنس کے دیگر مقررین میں وزارت تعلیم کے جوائنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر ،ْ پروفیسر محمد رفیق طاہر ،ْ چئیرمین رُپانی فائونڈیشن ،ْ نصرالدین رُپانی ،ْ یونیسف کے چیف آف ایجوکیشن ،ْ ایلن ون کلمتھاٹ ،ْ ایجوکیشن فائونڈیشن اوپن سوسائٹی کی سینئر پروگرام آفیسر ،ْ نرگس سلطانہ ،ْ پلان انٹرنیشنل پاکستان کی قائم مقام کنٹری ہیڈ ،ْ نادیہ نور اور اوپن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن کے ڈین ،ْ پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود شامل تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ ارلی چائلیڈ ایجوکیشن پر پہلی کانفرنس کی سفارشات میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کو جوذمہ داریاں سونپی گئی تھی ،ْ یونیورسٹی نے وہ ذمہ داریاں بہ حسن و خوبی ادا کردئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ذمہ داریوں میں ارلی چائیلڈ ایجوکیشن اینڈ کئیر" کے عنوان پرریسرچ جرنل کی اشاعت ،ْ یونیورسٹی میں "بچوں کی دیکھ بھال اور ابتدائی تعلیم کا مرکز"کا قیام ،ْ چار سالہ بی ایس ڈگری پروگرام اور پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرامز متعارف کرنا شامل تھے۔

ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ ریسرچ جنرل شائع ہوگیا ہے ،ْ چائلیڈ ایجوکیشن سینٹر کے قیام کا کام آخری مرحلے میں ہے ،ْ ارلی چائلیڈ ایجوکیشن میں چار سالہ بی ایس پروگرام اور پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ آئندہ سمسٹر سے پیش کئے جائیں گے۔۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اعلان کیا کہ اس موضوع پر کانفرنس یونیورسٹی کی ایک مستقل تقریب ہوگی۔وفاقی وزیر ،ْ انجینئر محمد بلیغ الرحمن نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں نصاب سازی کا سب سے زیادہ کام سال 2013سے 2018ء کے درمیان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود حکومت ہر شعبہ زندگی میں بہتری لائی ہے۔ ارلی چائیلڈ ایجوکیشن اینڈ کئیر" کے عنوان پر اوپن یونیورسٹی کے نئے ریسرچ جرنل کی لانچنگ کرتے ہوئے محمد بلیغ الرحمن نے کہا کہ یونیورسٹی کا یہ جرنل بچوں کی ابتدائی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرے گا ،ْ اسی طرح بچوں کی دیکھ بھال اور ابتدائی تعلیم کا مرکزآئوٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی نیٹ میں لانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ انجنئیر محمد بلیغ الرحمن نے ان کامیابیوں پر وائس چانسلر ،ْ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کو مبارکباد دی۔ ارلی چائیلڈ ایجوکیشن کے موضوع پر پوسٹر مقابلہ اور محفل مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔