70 سال میں پاکستان کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دیا گیا ،ْماضی کے حکمران پٹ چکے، اب وقت متحدہ مجلس عمل کا ہے ،ْمولانا فضل الرحمن

تیرہ مئی کو ملک کے ہر کونے سے قافلوں کا رخ مینار پاکستان پر ہوگا ،ْپس پردہ قوتیں ڈھکی چھپی نہیں رہیں ،ْجو دینی قوتوں کے مقابلے میں سامنے آرہی ہیںانہیں دعوت دیتا ہوں کہ ایجنسیوں کی بات ماننے کے بجائے ہمارے ساتھ مل بیٹھیں ،ْ سیکولر طبقے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوسکتے ہیں تو مذہبی جماعتیں کیوں اکٹھی نہیں ہوسکتی ،ْمشرف کو کہاتھامیرے وزیراعظم بننے پر دباؤ مین کیوں ہیں اگر 6 ماہ میں یورپ کو رام نہ کرسکا تو مستعفی ہوجاؤنگا ،ْخارجہ پالیسی خطرناک صورتحال سے دوچارہے ،ْہمیں ملک کو نعروں اور جذبات کی بجائے سنجیدہ سیاست دینا ہوگی ،ْ ایم ایم اے کے صدر کا ور کرز کنونشن سے خطاب

بدھ مئی 16:10

/ اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ 70 سال میں پاکستان کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دیا گیا ،ْماضی کے حکمران اب پٹ چکے، اب یہ وقت متحدہ مجلس عمل کا ہے ،ْتیرہ مئی کو ملک کے ہر کونے سے قافلوں کا رخ مینار پاکستان پر ہوگا ،ْپس پردہ قوتیں ڈھکی چھپی نہیں رہیں ،ْجو دینی قوتوں کے مقابلے میں سامنے آرہی ہیںانہیں دعوت دیتا ہوں کہ ایجنسیوں کی بات ماننے کے بجائے ہمارے ساتھ مل بیٹھیں ،ْ سیکولر طبقے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوسکتے ہیں تو مذہبی جماعتیں کیوں اکٹھی نہیں ہوسکتی ،ْمشرف کو کہاتھامیرے وزیراعظم بننے پر دباؤ مین کیوں ہیں اگر 6 ماہ میں یورپ کو رام نہ کرسکا تو مستعفی ہوجاؤنگا ،ْخارجہ پالیسی خطرناک صورتحال سے دوچارہے ،ْہمیں ملک کو نعروں اور جذبات کی بجائے سنجیدہ سیاست دینا ہوگی۔

(جاری ہے)

بدھ کو ورکرز کونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ 13 مئی مینار پاکستان پر ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا ،ْملک کے ہر کونے سے قافلوں کا رخ مینار پاکستان پر ہوگا ۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ 10 ہزار کو ایک لاکھ کہنے والوں کو بتائیں گے کہ عوام کا انتخاب کیا ہے اور اس کا جم غفیر کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ملک کے وجود کو 70 سال ہوچکے ،ْہم صرف ایک منزل پاکستان کا حصول ہی حاصل کرسکے ،ْ70 سال سے جو قوتیں اس ملک پر حکمران ہیں وہ بیرونی ترجیحات کے حامل غلامانہ ذہنیت کے عکاس ہیں ،ْاس ذہنیت نے پاکستان کو ترقی دی نہ ہی عوام کا معیار زندگی بلند کیا ،ْجن قوتوں کو ہم نے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھا انہوں نے ملک کو دو لخت کیا ،ْانہی قوتوں نے پاکستان کو اس کے اساسی نظریے سے دور کیا ،ْپاکستان جسے اسلامی ریاست کے طور پر متعارف کرانا تھا اسے لبرل ریاست کے طور پر متعارف کرایا گیا ،ْہمیں اس بات پر سوچنا ہوگا کہ پاکستان آج بھی آزاد نہیں ہے ۔

انہوںنے کہاکہ 2002ء میں جب میں نے وزیراعظم کا الیکشن لڑا تو مشرف نے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کرے گا ،ْاس وقت میں نے مشرف سے کہا کیا یہ آزادی ہے جس پر سابق صدر نے کہاکہ ہم تسلیم کریں ہم غلام ہیں میں نے کہا کہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے کہ غلامی قبول کریں لیکن مجھے میرے آباؤ اجداد نے غلامی کے خلاف لڑنے کا درس دیا ہے انہوںنے کہاکہ 70 سال میں پاکستان کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دیا گیا مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آئینی، سیاسی، معاشی بحران دیئے گئے اور یہ بحران آپس میں ایسے الجھ گئے ہیں کہ ان سے نکالنے کیلئے قوم کو نئے مسیحا کی ضرورت ہے ۔

انہوںنے کہاکہ ماضی کے حکمران اب پٹ چکے، اب یہ وقت متحدہ مجلس عمل کا ہے ،ْہم اس حوالے سے سب اہل علم و دانش اور نظریہ پاکستان کے حامیوں کو دعوت دے رہے ہیں ۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ دین دار قوتوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ آؤ ہمارے ساتھ چلو ،ْاب پس پردہ قوتیں ڈھکی چھپی نہیں رہیں، جو دینی قوتوں کے مقابلے میں سامنے آرہی ہیں ،ْانہیں دعوت دیتا ہوں کہ ایجنسیوں کی بات ماننے کے بجائے ہمارے ساتھ مل بیٹھیں انہوںنے کہاکہ ستر سال میں پاکستان کو تقسیم کیاگیا اور کالک مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر ملی گئی ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سیاست دانوں، قوم پرستوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے لیکن اگر سیکولر طبقے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوسکتے ہیں تو مذہبی جماعتیں کیوں اکٹھی نہیں ہوسکتی انہوںنے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتب فکر اکٹھے ہیں اس پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہے انہوںنے کہاکہ 1973ء سے آج تک کس نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر کیوں عمل درآمد نہیں کررہے ،ْاپنی ناکامی کا ملبہ کیوں مذہبی جماعتوں پر ڈالتے ہو ،ْ ہم آئین و قانون کے راستے پر چل کر ملک کے حالات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں انہوںنے کہا کہ آج سیاست، پارلیمنٹ،، دفاع، معیشت بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جب تک ہم ان شعبوں کو عالمی دباؤ سے نہیں نکالتے خود مختار ملک نہیں بن سکتے ،ْمعیشت کی بہتری کے لئے بنیادی اصول تبدیل کرکے ملک کو معاشی طور پر مضبوط بناسکتے ہیں ۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ خارجہ پالیسی بنانے والے ماہرین اور ناکام خارجہ پالیسی کے نتیجے میں نااہل کسی کو کیا جاتا ہے یہ عجیب سیاست ہے ۔انہوںنے کہاکہ امریکہ کو ڈھیر میں نے اپنی خارجہ کمیٹی میں کیا، روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں بھی ہم نے کردار ادا کیا ۔

مولانا فضل نے بتایا کہ 2005ء میں چین نے اقتصادی روڈ میپ کا مرتب کیا تو انہیں پاکستان سے اقتصادی راہداری کا مشورہ میں نے دیا انہوںنے کہاکہ سی پیک کی بنیاد ہم نے رکھی جو نظر نہیں آتی ۔انہوںنے کہاکہ مشرف کو اسوقت بھی کہاتھاکہ میرے وزیراعظم بننے پر دباؤ مین کیوں ہیں اگر 6 ماہ میں یورپ کو رام نہ کرسکا تو مستعفی ہوجاؤنگا۔انہوںنے کہاکہ آج ملک میں ایک نظریاتی فرق واضح ہورہا ہے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سیکولر طبقے کی وجہ سے ملک میں بحران آئے اور ملک دولخت ہوا ،ْہمیں تعلیمی پالیسی کو تبدیل کرنا کی ضرورت ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے قبول کریں تو پاکستانی ورنہ نہیں ،ْایسا قطعاً نہیں ہے ،ْہم میں خود اعتمادی ہونی چاہیے۔ہمیں ملک کو نعروں اور جذبات کی بجائے سنجیدہ سیاست دینا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ اقلیتوں کے حقوق کی جنگ وہ نہیں ہم لڑیں گے ،ْاگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو یہ دین سے انحراف ہوگا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دینی مدارس میں پرائمری ، مڈل اور میٹرک کی تعلیم دی جاتی ہے ،ْہم علم کو علم سمجھتے ہیں ،ْدینی اور عصری علوم میں کوئی فرق نہیں سمجھتے ،ْجن علوم کو آج دنیاوی کہا جارہا ہے یہ تو قرآن میں موجود ہیں تو بتایا جائے یہ کیسے دنیاوی ہوئے ،ْہم دلائل اور صلاحیت کے اعتبار سے تو اہل ہیں مگر ہمارا راستہ روکا جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہمیں اپنا واضح موقف دینا ہوگا ،ْخارجہ پالیسی خطرناک صورتحال سے دوچارہے ،ْ ہماری خارجہ پالیسی خطرناک حد تک ناکام ہوچکی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایک طرف انڈیا اور امریکا دوسری طرف امریکا انڈیا اور افغان حکومت خلاف ہے ،ْ افغانستان جل چکا ھے ،ْشام اور یمن میں مسلم اٴْمّہ زخمی ہے۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سی پیک دشمن کو قابل قبول نہیں اس لئے وہ اس کو ناکام کرنے کیلئے اپنی حربے آزما رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ خود اعتمادی سے کہتے ہیں دینی قوتیں ملکی بقا و سلامتی کیلئے متحد ہیں۔انہوںنے کہا کہ اس بات کی کیوں فکر کریںکہ ہم ایجنسیوں کو قابل قبول نہیں ،ْہمیں ملک کی بہتری کیلئے سوچنا ھوگا ،ْاب بہت ہوگیا ہے ،ْہمیں سنجیدہ سیاست ملک میں متعارف کرانا ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ نعروں اور نمائش کی سیاست بہت دیکھ لی اب ہم سنجیدہ سیاست کو فروغ دینگے ،ْ اب ملک کو صحیح رخ پر لانے کیلئے فیصلے کرنا ہوں گے ،ْاپنی قوم کو جان مال عزت آبرو کے حفاظت کی ضمانت دینا ہوگی ۔

انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کو حق آزادی نہیں دلاسکے بحیثیت قوم سوچنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ اقلیتوں کے حقوق کی جنگ لڑنا اسلامی تعلیمات ہیں، کوئی انکا حق غصب کریگا گویا وہ ہمارے حق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے ۔۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ قندوز میں معصوم حفاظ کو بے دردی کا نشانہ بنانا افغانستان میں جاری مزاحمت کو جواز فراہم کررہا ہے ،ْ آج فلسطین کا کیا حشر کیا گیا ہے متنازع علاقے میں سفارت خانہ کیسے کھولا گیا۔