حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اہم شخصیات کی سکیورٹی کے لیے پالیسی مرتب کر لی

اہم شخصیات کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار فراہم کرنے کا فیصلہ،10 ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز اہلکار سکیورٹی پر مامور ہوں گے پالیسی کے مطابق صوبائی محکموں کے سیکرٹریز سکیورٹی لینے کے اہل نہیں ہوں گے، ایڈیشنل اور ڈپٹی سیکرٹریز بھی سکیورٹی نہیں لے سکیں گے،ذرائع

بدھ مئی 16:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اہم شخصیات کی سکیورٹی کے لیے پالیسی مرتب کر لی ہے ،جس کے بعد اہم شخصیات کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سندھ میں 10 ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز اہلکار سکیورٹی پر مامور ہوں گے ۔ ہنگامی صورت میں یہ سکیورٹی واپس لی جا سکے گی ۔ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے اہم شخصیات کو سکیورٹی کی فراہمی بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

یہ سکیورٹی سپریم کورٹ کے حکم پر واپس لی گئی تھی ۔۔سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت کی تھی ، جہاں ضروری ہو ، سکیورٹی فراہم کی جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سند ھ کی جانب سے مرتب کردہ سکیورٹی پالیسی کے مطابق سابق صدر ، وزیر اعظم ، گورنر ز ، وزرائے اعلی ، چیئرمین سینیٹ ، اسپیکر قومی اسمبلی ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز ، سندھ کے ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز اور آئی جیز سکیورٹی لینے کے اہل ہوں گے ۔

(جاری ہے)

سندھ ہائیکورٹ کے موجودہ جج صاحبان ، صوبائی محتسب کو بھی سکیورٹی مہیا ہو گی ۔۔ صوبائی وزراء ، وزیر اعلی کے مشیروں ، معاونین خصوصی اور کوآرڈی نیٹرز کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی ۔۔سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ، ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو بھی سکیورٹی مہیا ہو گی ۔۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز ، انسداد دہشت گردی ، احتساب ، لیبر اور دیگر خصوصی عدالتوں کے ججوں کو بھی سکیورٹی فراہم ہو گی ۔

چیف سیکرٹری ، ہوم سیکرٹری ، آئی جی ، ایڈیشنل آئی جی ، رینجرز اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کے افسروں کو بھی سکیورٹی مہیا ہو گی ۔حکومت سندھ کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی آئی جیز ، ڈی ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنرز ،سفارت کاروں ، سی پیک پر کام کرنے والے غیر ملکی باشندوں، سیاسی جماعتوں کے ممتاز رہنماؤں ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ، ممتاز مذہبی رہنما،ز تاجر و صنعت کار اور ٹیکس دہندگان،میڈیا سے وابستہ افراد،ہائی پروفائل مقدمات کے گواہوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی ۔

اسی طرح حکومت یا عدالت مفاد عامہ میں کسی کو بھی سکیورٹی فراہم کر سکیں گی ۔ ۔ سندھ میں دورہ کرنے والے صدر ، وزیر اعظم ، وفاقی وزراء ، غیر ملکی اہم شخصیات اور دیگر وی آئی پیز کے علاوہ غیر ملکی مشنز اور اہم سرکاری و غیر سرکاری تنصیبات کو بھی سکیورٹی مہیا کی جائے گی ۔ پالیسی کے مطابق صوبائی محکموں کے سیکرٹریز سکیورٹی لینے کے اہل نہیں ہوں گے ۔ ایڈیشنل اور ڈپٹی سیکرٹریز بھی سکیورٹی نہیں لے سکیں گے ۔