" مرافقین فیس " پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، کالم نگار راشد بن محمد الفوزان

Sadia Abbas سعدیہ عباس بدھ مئی 16:38

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء)    مقامی اخبار الریاض کے کالم نگار راشد بن محمد الفوزان نے اپنے کالم" تارکین کے اہل خانہ کا ریاست میں رہنا فائدہ مند" میں کہا ہے کہ سعودی حکام کو غیر ملکیوں کے لیے "مرافقین فیس" پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور اس میں غیر ملکیوں کا نہیں بلکہ ریاست کا اپنا فائدہ ہے ۔ مزید تفصیلات کے مطابق الفوزان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے اہل خانہ کا ریاست میں رہنا فائدہ مند ہے ۔

غیر ملکی خاندانوں کی قوت خرید کا معیشت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ غیر ملکی کارکن حد سے زیادہ اہم ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ جب گاڑیاں خریدتے ہیں ۔ بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اسی طرح کے اور متعدد اخراجات کرتے ہیں۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ موبائل استعمال کرتے ہیں تو اس سب سے ریاست سے کمائی ہوئی رقم جہاں ریاست میں ہی رہتی ہے وہیں پیسے کی گردش سے پیسے کی قیمت میں کمی نہیں آتی ۔

(جاری ہے)

جبکہ اکیلے رہنے والے غیر ملکیوں کا کیس اس سے برعکس ہے ۔ اکیلے رہنے والے غیر ملکی ریاست سے پیسہ کما کما کر اپنے وطن اپنےخاندانوں کو بھیجتے رہتے ہیں جس سے ریاست کا پیسہ بیرون ممالک منتقل ہوتا رہتا ہے ۔یاد رہے کہ سعودی عرب میں "مرافقین فیس " ہرسال بڑھ رہی ہے ۔ پہلے برس 100ریال، اگلے سال 200اور 2020ءتک فی کس 400ریال ماہانہ وصول کیا جائیگا۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی غیر ملکی کے ایک بیوی اور 3 بچے ہو ں تو اسے 2018ء کے دوران ماہانہ 800 ریال ادا کرنا ہونگےاور سال میں 9600 ریال دینا ہونگے۔